شیخ شعیب فردوسی کے صوفی اقوال
اگر کسی وقت مرید کا دل اپنے پیر و مرشد کی عظمت اور محبت سے غافل ہو جائے تو اسے چاہیے کہ اس کو ایک بڑا گناہ سمجھ کر فوراً توبہ کرے اور دل کو دوبارہ اپنے مرشد کی محبت سے آباد کرے۔
اللہ والوں کا ذکر در اصل اللہ ہی کا ذکر ہے، کیوں کہ جو دل اس کے دوستوں کی یاد میں لگا ہو وہ حقیقت میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
مرید کو چاہیے کہ اپنے پیر و مرشد کو دین کے معاملات میں رہبر سمجھے اور ہر حال میں ان کی پیروی اختیار کرے، ادبِ مریدی یہ ہے کہ وہ اپنے مرشد کی تعلیمات پر مضبوطی سے قائم رہے، یہاں تک کہ اگر کوئی اس سے پوچھے کہ تم حنفی ہو یا شافعی؟ تو وہ عاجزی سے یہ کہے کہ میں اپنے مرشد کا مقلد ہوں۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere