Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

تبسم علی پوری

1916 - 1985 | ہریانہ, بھارت

ممتاز غزل گو شاعر، ادیب اور صحافی تھے، جنہوں نے جوش ملیح آبادی سے تلمذ حاصل کیا، ’’برقِ تبسم‘‘ اور ’’عزمِ جواں‘‘ جیسے شعری مجموعے یادگار چھوڑے اور نعتیہ شاعری میں عشقِ رسول کا پُرخلوص اظہار کیا۔

ممتاز غزل گو شاعر، ادیب اور صحافی تھے، جنہوں نے جوش ملیح آبادی سے تلمذ حاصل کیا، ’’برقِ تبسم‘‘ اور ’’عزمِ جواں‘‘ جیسے شعری مجموعے یادگار چھوڑے اور نعتیہ شاعری میں عشقِ رسول کا پُرخلوص اظہار کیا۔

تبسم علی پوری کا تعارف

تخلص : 'تبسم'

اصلی نام : بھگت لچھمن داس

پیدائش :مظفر نگر, اتر پردیش

وفات : 02 Jan 1985

رشتہ داروں : جوش ملیح آبادی (مرشد)

تبسم علی پوری کا شمار ان ممتاز شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے تقسیمِ ہند سے قبل اور اس کے بعد اردو شاعری کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا، وہ 1916ء میں مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں بھگت حکم چند کے گھر پیدا ہوئے، ابتدائی زمانے سے ہی انہیں شعر و ادب سے گہرا شغف تھا، چنانچہ اپنے ذوقِ سخن کی آبیاری کے لیے انہوں نے عہد کے نامور شاعر جوش ملیح آبادی کی شاگردی اختیار کی، تقسیمِ ہند کے ہنگامہ خیز حالات کے بعد انہوں نے ہجرت کی اور سونی پت کو اپنی مستقل جائے سکونت بنایا، اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں پر انہیں یکساں عبور حاصل تھا، سونی پت میں انہوں نے ادبی سرگرمیوں کو منظم انداز میں فروغ دینے کی کوشش کی، ان کی سرپرستی میں ہفتہ وار اخبار "روشنی" شائع ہوتا تھا، تبسم علی پوری اپنے عہد کے ممتاز غزل گو شعرا میں شمار کیے جاتے تھے، ان کے کلام میں روایت کی پاسداری کے ساتھ عصری احساسات کی آمیزش بھی نمایاں ہے، ان کے دو شعری مجموعے "برقِ تبسم" اور "عزمِ جواں" بالترتیب 1975ء اور 1976ء میں شائع ہوئے، غزل گوئی کے ساتھ ساتھ انہوں نے نعتیہ شاعری میں بھی اپنے والہانہ جذباتِ عقیدت کا اظہار کیا، ان کی نعتوں میں عشقِ رسالت مآب، ادبِ بارگاہِ نبوی اور روحانی وارفتگی نہایت سادہ، مؤثر اور پُرخلوص انداز میں جلوہ گر ہوہے، 2 جنوری 1985ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے