Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

تابش مہدی

1951 - 2025 | دہلی, بھارت

ایک بھارتی نعت گو شاعر، نقاد، صحافی اور مصنف تھے جنھوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے اردو زبان و ادب کو ایک نئی جہت دی۔

ایک بھارتی نعت گو شاعر، نقاد، صحافی اور مصنف تھے جنھوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے اردو زبان و ادب کو ایک نئی جہت دی۔

تابش مہدی کا تعارف

تخلص : 'تابش'

اصلی نام : تابش مہدی

پیدائش : 03 Jul 1951 | پرتاپ گڑھ, اتر پردیش

وفات : 22 Jan 2025 | دہلی, بھارت

تابش مہدی کی ولادت 3 جولائی 1951ء کو پرتاپ گڑھ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے دینی اور عصری علوم کی تحصیل کی، تجوید و قرات، عربی، فارسی اور اردو کی اعلیٰ تعلیم مختلف علمی اداروں سے حاصل کی اور بالآخر 1997ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اردو تنقید میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، ان کے اساتذۂ سخن میں شہباز امروہوی، بلالی علی آبادی، سروش مچھلی شہری، ابوالوفا عارف شاہجہان پوری اور عامر عثمانی جیسے ممتاز اہلِ قلم شامل تھے، جن کی تربیت نے ان کے شعری اور ادبی ذوق کو جلا بخشی، تابش مہدی نے جولائی 1971ء میں ابوالکلام آزاد کالج، پرتاپ گڑھ سے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کیا، اس کے بعد دارالعلوم امروہہ اور جامعۃ الفلاح عربک کالج، بلریا گنج، اعظم گڑھ میں تدریسی خدمات انجام دیں، زندگی کے آخری دور میں وہ اسلامی اکادمی، جماعتِ اسلامی ہند، نئی دہلی سے وابستہ ہو گئے اور فنِ تجوید و قراءت کی تدریس میں مصروف رہے، تدریس کے ساتھ ساتھ صحافت اور ادارت کے میدان میں بھی ان کی خدمات نہایت نمایاں رہیں، وہ مختلف ادوار میں پیغامِ حق، اجتماع، الایمان، گلکدہ، ذکریٰ، تجلی، زندگی نو، ایوانِ اردو اور کتاب نما جیسے متعدد رسائل سے مدیر، معاون مدیر، رکنِ مجلسِ ادارت یا مہمان مدیر کی حیثیت سے وابستہ رہے، علاوہ ازیں پیش رفت اور کاروانِ ادب کے ادارتی بورڈ میں بھی طویل عرصے تک خدمات انجام دیتے رہے، جون 1991ء سے 3 جولائی 2009ء تک مرکزی مکتبۂ اسلامی، نئی دہلی میں بطور مدیر خدمات انجام دینا ان کی عملی زندگی کا ایک اہم باب ہے، اس کے علاوہ وہ ادارۂ ادبِ اسلامی ہند، عالمی رابطۂ ادبِ اسلامی، دارالدعوۃ ایجوکیشنل فاؤنڈیشن، ادبیاتِ عالیہ اکادمی، لکھنؤ اور دیگر علمی و ادبی اداروں سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کیا، تابش مہدی کی ادبی شخصیت نہایت ہمہ گیر تھی، وہ ایک بلند پایہ نعت گو شاعر، غزل گو، نقاد، محقق، صحافی اور صاحبِ طرز مصنف تھے، ان کی تخلیقی اور تحقیقی خدمات پر مشتمل تقریباً پچپن کتابیں شائع ہوئیں، ان کے شعری مجموعوں میں نقشِ اول، لمعاتِ حرم، سرودِ حجاز، تعبیر، سلسبیل، کنکر بولتے ہیں، صبحِ صادق، طوبیٰ، غزل نامہ، مشکِ غزالاں، رحمتِ تمام، غزل خوانی نہیں جاتی اور دانائے سبل شامل ہیں، ان کی نعتیہ شاعری بالخصوص لمعاتِ حرم، سرودِ حجاز، سلسبیل اور رحمتِ تمام کے ذریعے نمایاں ہوئی جن میں عشقِ رسولِ اکرم، ادبِ بارگاہِ رسالت، روحانی سرشاری اور جذبۂ عقیدت نہایت مؤثر پیرایۂ اظہار میں جلوہ گر ہوئے ہیں، شاعری کے علاوہ تنقید و تحقیق میں بھی ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں، اردو تنقید کا سفر، نقدِ غزل، تنقید و ترسیل، میرا مطالعہ، شفیق جونپوری: ایک مطالعہ، عرفانِ شہباز، حالی، شبلی اور اقبال اور وہ گلیاں یاد آتی ہیں جیسی تصانیف ان کی وسیع علمی بصیرت اور گہرے تنقیدی شعور کی آئینہ دار ہیں، 22 جنوری 2025ء کو صبح تقریباً دس بجے نئی دہلی میں ان کا انتقال ہوا، بعد ازاں شاہین باغ، دہلی کے قبرستان گورِ غریباں میں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے