Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Wasif Ali Wasif's Photo'

واصف علی واصف

1929 - 1993 | لاہور, پاکستان

پاکستان کی مشہور روحانی شخصیت اور ممتاز مصنف

پاکستان کی مشہور روحانی شخصیت اور ممتاز مصنف

واصف علی واصف کے صوفی اقوال

476
Favorite

باعتبار

بیدار کردینے والا غم غافل کردینے والی خوشی سے بدرجہا بہتر ہے۔

بدی کی تلاش ہو تو اپنے اندر جھانکو، نیکی کی تمنا ہو تو دوسروں میں ڈھونڈو۔

وہ شخص اللہ کونہیں مانتا جو اللہ کا حکم نہیں مانتا۔

لوگ دوست کو چھوڑ دیتے ہیں بحث کو نہیں چھوڑتے۔

بہترین کلام وہی ہے جس میں الفاظ کم اور معنیٰ زیادہ ہوں۔

دنیا قدیم ہے لیکن اس کا نیا پن کبھی ختم نہیں ہوتا۔

اس کی عطاؤں پر الحمدلللہ اور اپنی خطاؤں پر استغفراللہ کرتے ہی رہنا چاہیئے۔

اتنا پھیلو کہ سمٹنا مشکل نہ ہو، اتنا حاصل کرو کہ چھوڑتے وقت تکلیف نہ ہو۔

ہم صرف زبان سے اللہ اللہ کہتے رہتے ہیں، اللہ لفظ نہیں، اللہ آواز نہیں، اللہ پکار نہیں، اللہ تو ذات ہے مقدس و ماورا، اس ذات سے دل کا تعلق ہے زبان کا نہیں، دل اللہ سے متعلق ہوجائے تو ہمارا سارا وجود دین کے سانچے میں ڈھل جانا لازمی ہے۔

اچھے لوگوں کا ملنا ہی اچھے مستقبل کی ضمانت ہے۔

دل سے کدورت نکال دو۔۔۔سکون مل جائے گا۔

ہم لوگ فرعون کی زندگی چاہتے ہیں اور موسیٰ کی عاقبت۔

ہمارے بعد دنیا ویسی ہی قائم و دائم رہے گی، جیسی ہمارے آنے سے پہلے تھی۔

انسان لائحۂ عمل یا نظریے سے محبت نہیں کرسکتا، انسان صرف انسان سے محبت کر سکتا ہے۔

انسان کا دل توڑنے والا شخص اللہ کی تلاش نہیں کرسکتا۔

دوسروں کی خامی آپ کی خوبی نہیں بن سکتی۔

بچہ بیمار ہو تو ماں کو دعا مانگنے کا سلیقہ خود بخود آ جاتا ہے۔

دعا کرنے سے بہتر ہے کہ کسی دعا کرنے والے کو پالیا جائے۔

ہم ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں اگر ہم معاف کرنا اور معافی مانگنا شروع کر دیں۔

آپ کا اصل ساتھی اور آپ کا صحیح تشخص آپ کے اندر کا انسان ہے، اسی نے عبادت کرنا ہے اور اسی نے بغاوت، وہی دنیا والا بنتا ہے اور وہی آخرت والا، اسی اندر کے انسان نے آپ کو جزا و سزا کا مستحق بنانا ہے، فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ کا باطن ہی آپ کا بہترین دوست ہے اور وہی بدترین دشمن، آپ خود ہی اپنے لئے دشواری سفر ہو اور خود ہی شادابی منزل، باطن محفوظ ہوگیا، تو ظاہر بھی محفوظ ہوگا۔

خیال بدل سکتا ہے لیکن امر نہیں ٹل سکتا۔

معاف کردینے والے کے سامنے گناہ کی کیا اہمیت؟ عطا کے سامنے خطا کا کیا ذکر؟

دور سے آنے والی آواز بھی اندھیرے میں روشنی کا کام کرتی ہے۔

عروج اس وقت کو کہتے ہیں جس کے بعد زوال شروع ہوتا ہے۔

کسی شے سے اس کی فطرت کے خلاف کام لینا ظلم ہے۔

نا پسندیدہ انسان سے پیار کرو اس کا کردار بدل جائے گا۔

سننے والے کا شوق ہی بولنے والے کی زبان تیز کرتا ہے۔

دین و دنیا۔۔۔ جس شخص کے بیوی بچے اس پر راضی ہیں، اس کی دنیا کامیاب ہے اور جس کے ماں باپ اس پر خوش ہیں اس کا دین کامیاب۔

حضور کی بات پر کسی اور کی بات کو فوقیت دینا ایسے ہے جیسے شرک۔

کسی کے احسان کو اپنا حق نہ سمجھ لینا۔

حسن عشق کا ذوقِ نظر ہے اور عشق، قربِ حسن کی خواہش کا نام ہے۔

اپنی ہستی سے زیادہ اپنا نام نہ پھیلاؤ نہیں تو پریشان ہوجاؤگے۔

طالبِ علم ملک کے وارث ہوتے ہیں۔

چھن جانے کے بعد بہشت کی قدر ہوتی ہے۔

گرو کی بات پر ایسے یقین کرو جیسے معصوم بچہ اپنے ماں باپ کی بات پر یقین کرتا ہے، اس بے یقینی کے دور میں یقین کا حاصل ہونا کرامت سے کم نہیں۔

تسلیم کے بعد تحقیق گمراہ کر دیتی ہے۔

ولیوں کی صحبت میں رہو۔۔۔۔سکون مل جائے گا۔

گرو کی بات ہی گُر ہے، گرو سے تعلق علم ہے، گرو کی خوشی فلاح ہے، گرو کی ناراضگی۔۔۔سے بچنا چاہیئے۔

جو شخص اس لئے اپنی اصلاح کر رہا ہے کہ دنیا اس کی تعریف و عزت کرے تو اس کی اصلاح نہیں ہوگی، اپنی نیکیوں کا صلہ دنیاسے مانگنے والا انسان نیک نہیں ہو سکتا، ریا کار اس عابد کو کہتے ہیں جو دنیا کو اپنی عبادت سے مرعوب کرنا چاہے۔

کسی انسان کے کم ظرف ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی زبان سے اپنی تعریف کرنے پر مجبور ہو، دوسروں سے اپنی تعریف سننا مستحسن نہیں اور اپنی زبان سے اپنی تعریف عذاب ہے۔

جھوٹا آدمی کلامِ الٰہی بھی بیان کرے تو اثر نہ ہوگا، صداقت بیان کرنے کے لئے صادق کی زبان چاہیئے۔۔۔بلکہ صادق کی بات ہی صداقت ہے، جتنا بڑا صادق اتنی بڑی صداقت۔

چاندنی میں چاند نہیں ہوتا اور چاند پر چاندنی نہیں ہوتی۔

خوش نصیب انسان وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش رہے۔

گناہوں میں مبتلا انسان کا دعاؤں پر یقین نہیں رہتا۔

آج کا انسان صرف مکان میں رہتا ہے اس کا گھر ختم ہوگیا۔

سب سے پیارا انسان وہ ہوتا ہے جس کو پہلی ہی بار دیکھنے سے دل یہ کہے۔ ’’میں نے اسے پہلی بار سے پہلے بھی دیکھا ہوا ہے‘‘۔

توبہ جب منظور ہوجاتی ہے تو یادِ گناہ بھی ختم ہوجاتی ہے۔

جس نے اپنی زندگی کو قبول کرلیا اس نے خدا کو مان لیا۔

انکار اقرار کی ایک حالت ہے، اس کا ایک درجہ ہے، انکار کو اقرار تک پہنچانا، صاحبِ فراست کا کام ہے، اسی طرح کفر کو اسلام تک لانا، صاحبِ ایمان کی خواہش ہونا چاہیئے۔

کائنات کا کوئی غم ایسا نہیں ہے جو آدمی برداشت نہ کرسکے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے