Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

یعقوب علی جہانگیری

- 1974 | کراچی, پاکستان

یعقوب علی جہانگیری کے صوفی اقوال

باعتبار

فقیری یا درویشی وہ کرے جو ببول کے کانٹوں پر بیٹھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور دھکتے ہوئے انگاروں پر لوٹنا جانتا ہو۔

سالکین کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں ہر وقت اپنا احتساب کرتے رہا کریں کہ کہیں ان کی کسی بات سے کسی کی دل آزادی تو نہیں ہو رہی ہے۔

مرشد سے جھوٹ بولنے والا شیطان ہوتا ہے۔

جو لوگ خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہیں ان کے دل خود خدا سے لرزتے رہتے ہیں۔

اصل درویش وہ ہوتا ہے کہ جو کسی کے آگے دستِ تماں دراز نہیں کرتا اور صرف خدا پر توکل کرتا ہے۔

فقیر کا ہاتھ سوائے خدا کے کسی کے آگے دراز نہیں ہوتا۔

انسان غلطی کا پتلہ ہے۔

جو خدا کے عاشق ہوجاتے ہیں ان کے مقام کا تعین صرف خدا ہی کرسکتا ہے۔

علم سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں اور سب سے زیادہ امیر آدمی وہ ہوتا ہے جو دنیا اور آخرت کے علوم سے مالا مال ہو۔

بغیر وسیلہ کے انان کچھ حاصل نہیں کرسکتا۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے