ظہیر احمد ظہیریؔ کا تعارف
ظہیر احمد ولد حکیم فتح محمد سبزواری، بدایوں کے محلہ فرشوری ٹولہ و سوتھا کے معزز شیخ صدیقی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے اجداد اصلًا سبزوار سے عہدِ محمد بن تغلق میں دہلی آئے اور وہاں سے سہسوان میں سکونت پذیر ہوئے، اسی علمی و تہذیبی خانوادے میں آپ کی ولادت 7 محرم 1277ھ مطابق 26 جولائی 1860ء کو ہوئی، آپ اپنے عہد کے جید علما میں شمار ہوتے تھے اور مختلف علوم و فنون پر گہری دسترس رکھتے تھے، روحانی و ادبی دونوں میدانوں میں آپ کو شاہ دلدار علی مذاق بدایونی سے نسبت حاصل تھی، آپ ان کے خلیفہ بھی تھے اور شاعری میں انہی کے شاگرد تھے، ظہیر احمد نے اپنے عہد کے مختلف اخبارات و رسائل میں نثر و نظم کے ذریعے بھرپور حصہ لیا اور اپنے افکار و خیالات کو عام کیا، تصنیف و تالیف کے میدان میں آپ کی خدمات نہایت وسیع ہیں، آپ نے مختلف علوم و فنون پر تقریباً چار سو سے زائد چھوٹے بڑے رسائل تحریر کیے، جو آپ کی علمی وسعت اور غیر معمولی قلمی توانائی کا واضح ثبوت ہیں، ادبی حیثیت سے آپ ہمہ جہت شاعر تھے، تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، خصوصاً نعتیہ شاعری میں آپ کو امتیازی مقام حاصل تھا، "قصیدۂ ظہیری" اور "قصیدۂ نعت" کے علاوہ آپ کے نعتیہ کلام کے تقریباً سات مجموعے اور گلدستے شائع ہوچکے ہیں، جن میں عشقِ رسول کی سچی وارفتگی، فنی پختگی اور زبان کی شستگی نمایاں ہے، 22 مارچ 1941ء کو آپ کا وصال ہوا۔