Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

ذاکر بدایونی

1836 - 1916 | بدایوں, بھارت

نعت و میلاد کی روایت کو عملی اور روحانی رنگ عطا کرنے والی شخصیت۔

نعت و میلاد کی روایت کو عملی اور روحانی رنگ عطا کرنے والی شخصیت۔

ذاکر بدایونی کا تعارف

تخلص : 'ذاکر'

اصلی نام : محمد مجاہدالدین

پیدائش : 04 Apr 1836 | بدایوں, اتر پردیش

وفات : 06 Jan 1916 | اتر پردیش, بھارت

محمد مجاہدالدین ذاکر احمد بن مبارزالدین، بدایوں کے محلہ سوتھا میں خاندانِ متولیان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت 17 ذوالحجہ 1251ھ مطابق 4 اپریل 1836ء کو ہوئی، ابتدائی تعلیم کے طور پر حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کرنے کے بعد آپ مارہرہ تشریف لے گئے، جہاں حضرت شاہ آلِ رسول مارہروی کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور خرقۂ خلافت سے سرفراز ہوئے، ادبی میدان میں آپ نے لکھنؤ میں خواجہ بہادر حسین خاں فراق لکھنوی سے تلمذ حاصل کیا اور بعد ازاں نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کے تلامذہ میں شامل ہو کر اپنے ذوقِ سخن کو مزید نکھارا، 1854-55ء کے دوران آپ کو میلادِ نبوی پڑھنے کا ایسا شغف پیدا ہوا جو رفتہ رفتہ ایک مستقل دینی و روحانی مشن میں تبدیل ہوگیا، چنانچہ 1876ء میں آپ نے اپنی رہائش گاہ اور اس سے متعلقہ جائیداد کو محافلِ میلاد کے لیے وقف کر دیا جو نبی خانہ کے نام سے معروف ہوئی، یہاں 27 رجب اور ہر ماہ کی 12 تاریخ کو باقاعدگی سے محافلِ میلاد کا انعقاد کیا جاتا تھا، آپ کی پوری زندگی نعت و منقبت کہنے، پڑھنے اور سننے میں بسر ہوئی، اپنے پیچھے آپ نے تین ضخیم نعتیہ دیوان بطور یادگار چھوڑے جو آپ کے والہانہ عشقِ رسول اور ادبی ذوق کے غماز ہیں، آپ کا وصال 28 اور 29 صفر کی درمیانی شب مطابق 5-6 جنوری 1916ء کو ہوا، آپ کی حیات علم، تصوف اور عشقِ رسول کا ایک درخشاں نمونہ تھی۔

موضوعات

Recitation

بولیے