ضیا فتح آبادی کا تعارف
تخلص : 'ضیا'
اصلی نام : مہر لال سونی
پیدائش : 09 Feb 1913 | فتح آباد, ہریانہ
وفات : 19 Aug 1986 | دہلی, بھارت
رشتہ داروں : سیماب اکبرآبادی (مرشد)
مہر لال فتح آباد کے باشندے اور سونی خاندان سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم تھے، ان کی پیدائش 1913ء میں ہوئی، انہوں نے فارسی میں بی اے آنرز کی سند حاصل کرنے کے بعد انگریزی میں ایم اے کیا، ان کا تعلیمی سفر اس امر کا آئینہ دار ہے کہ وہ مشرقی علوم و ادبیات کی روایت سے بھی وابستہ تھے اور جدید تعلیم کے تقاضوں سے بھی بخوبی آشنا تھے، عملی زندگی میں وہ بینک کی ملازمت سے وابستہ رہے، تاہم ملازمت کی مصروفیات کے باوجود شعر و ادب سے ان کا رشتہ کبھی منقطع نہ ہوا، مہر لال نے شاعری میں سیماب اکبرآبادی سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، ان کا شعری سرمایہ مختلف اصنافِ سخن پر محیط ہے اور اس میں نظم، غزل، قطعہ، رباعی، گیت اور منظومات سبھی شامل ہیں، ان کی مطبوعہ تصانیف میں ’’نورِ مشرق‘‘ (منظومات)، ’’نئی صبحیں‘‘ (نظم، غزل اور قطعات)، ’’طلوع‘‘ (قطعات)، ’’گردِ راہ‘‘ (رباعیات، گیت اور منظومات) اور ’’تنویریں‘‘ (غزلیات) خصوصاً قابلِ ذکر ہیں، نعتیں بھی خلوص کےساتھ کہی ہیں۔