ضیاؤالقادری بدایونی کا تعارف
اصلی نام : ضیاؤالقادری
رشتہ داروں : علی احمد خان اسیرؔ (مرشد)
مولوی محمد یعقوب حسین المعروف ضیاؤالقادری ولد محمد یار حسین، بدایوں کے کوچہ ملا، فرشوری ٹولہ کے معزز شیخ صدیقی علمی و دینی خاندان میں 27 رجب 1300ھ مطابق 3 جون 1883ء کو پیدا ہوئے، کم سنی ہی میں والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا، چنانچہ آپ کی پرورش آپ کے خالو علی احمد خاں اسیر بدایونی نے کی، جن کی نگرانی نے آپ کی علمی و ادبی شخصیت کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا، ابتدائی تعلیم آپ نے اسیر بدایونی اور مفتی امتیاز احمد تاثیر سے حاصل کی، جبکہ قرآن و حدیث کی تعلیم مولانا محب احمد قادری سے حاصل کی، 1897ء میں تحصیل اسکول بدایوں سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور 1899ء میں محکمۂ سروے میں ملازمت اختیار کی، جہاں آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا، تقسیمِ ہند کے بعد آپ پاکستان منتقل ہوگئے اور کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنایا، وہیں 15 اگست 1970ء کو آپ کا وصال ہوا، روحانی اعتبار سے آپ سلسلۂ قادریہ سے وابستہ تھے، ابتدا میں مولانا عبدالقادر بدایونی سے بیعت ہوئے اور بعد ازاں ان کے فرزند مولانا عبدالمقتدر بدایونی سے تجدیدِ بیعت کی، آپ نہایت پابندِ شریعت، زاہد و متقی اور سادہ مزاج انسان تھے، جن کی زندگی تقویٰ اور دیانت کی عملی تصویر تھی، ادبی حیثیت سے آپ ایک صاحبِ ذوق نعت گو شاعر تھے، آپ نے فنِ شاعری میں اپنے خالو اسیر بدایونی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، آپ نے اپنی شاعری کو نعت، مناقبِ صحابہ و اؤلیا تک محدود رکھا اور اسی دائرے میں ایک قابلِ قدر شعری سرمایہ پیش کیا، اس کے علاوہ آپ نے متعدد مقدس مقامات کے منظوم سفرنامے، قصائد اور سلام بھی تحریر کیے جو شائع ہو کر اہلِ ذوق سے داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں۔