تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "mahbubuz zaman tazkira e shora e deccan part 002 mohammad abdul jabbar khan ebooks"
صوفیانہ مضامین کے متعلقہ نتیجہ "mahbubuz zaman tazkira e shora e deccan part 002 mohammad abdul jabbar khan ebooks"
صوفیانہ مضامین
تذکرہ پدم شری عزیز احمد خاں وارثی قوال
فنکار اپنے ملک کی تہذیب و تمدن کا نمائندہ ہوتا ہے اور تہذیب و تمدن نام
اکمل حیدرآبادی
صوفیانہ مضامین
تذکرہ یوسف آزاد قوال
اسمٰعیل آزاد کے ہم عصروں میں سب سے زیادہ شہرت یوسف آزاد کو نصیب ہوئی، یوسف
اکمل حیدرآبادی
صوفیانہ مضامین
تذکرہ اسمٰعیل آزاد قوال
گیارہویں صدی عیسوی سے موجودہ بیسویں صدی تک قوالی نے کئی منزلیں طے کیں لیکن یہ
اکمل حیدرآبادی
صوفیانہ مضامین
تذکرہ حضرت شاہ تیغ علی
مشائخ سلسلہ عالیہ قادریہ میں حضرت صوفی شاہ آبادانی سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ (م18/ربیع الثانی 1220
ڈاکٹر شمیم منعمی
صوفیانہ مضامین
تذکرہ جانی بابو قوال
جانی با بو ایک سریلی، میٹھی اور پرکشش آواز کے مالک ہیں، ان کی طبیعت میں
اکمل حیدرآبادی
صوفیانہ مضامین
تذکرہ حضرت میر سید علی منجھن شطاری راجگیری
ساداتِ حسنی میں سے ایک مستند بزرگ حضرت میر سید محمد حسنی البغدادی ہجرت کرتے ہوئے
ڈاکٹر شمیم منعمی
صوفیانہ مضامین
تذکرہ عبدالرب چاؤش قوال
عبدالرب چاؤش مقابلوں کے فنکار ہیں، مقابلوں کی حد تک دنیائے قوالی میں ان کا نام
اکمل حیدرآبادی
صوفیانہ مضامین
تذکرہ شنکر و شمبھو قوال
قوالی کافن کسی مذہب کی میراث نہیں، ہر مذہب کے لوگ نہ صرف اس فن کی
اکمل حیدرآبادی
صوفیانہ مضامین
قوالی کا عہدِ ایجاد اور مقصدِ ایجاد
قوالی کی ایجاد امیر خسروؔ کے عہدِ حیات ۱۲۵۳ء تا۱۳۲۵ء کے ٹھیک درمیان کا عہد ہے،
اکمل حیدرآبادی
صوفیانہ مضامین
قوالی کا عہدِ ایجاد اور سماجی پس منظر
موجدِ قوالی حضرت امیر خسروؔ کا عہدہ ابتدائے اسلام اور موجودہ عہد کے ٹھیک درمیان کا
اکمل حیدرآبادی
صوفیانہ مضامین
قوالی میں اقوالِ رسول اور اقوالِ خسروؔ کا استعمال
قوالی کے ابتدائی مضامین ’’اقوالِ رسول‘‘ پر مشتمل ہیں یعنی اُن کلماتِ متبرکہ پر جو کہ
اکمل حیدرآبادی
صوفیانہ مضامین
خواجہ مبارک
نویں صدی ہجری بنارس کے صاحبِ کشف و کرامات اور بڑے مرتاض بزرگوں میں سے تھے،
عبدالسلام نعمانی
صوفیانہ مضامین
ابوالبرکات بنارسی
بن مولانا فضل امام حنفی مجددی بہاری ثم البنارسی، علمائے صالحین میں سے تھے، ہندوستان میں
عبدالسلام نعمانی
صوفیانہ مضامین
حضرت بندگی مسعود
اپنے والد بزرگوار کی زندگی میں نابالغ تھے، اس لیے خلافت و ارادت کی نعمت نہیں