Font by Mehr Nastaliq Web
Bulleh Shah's Photo'

بلھے شاہ

1680 - 1757 | قصور, پاکستان

بلھے شاہ پنجاب کے معروف صوفی شاعر تھے جن کے کلام میں عشقِ الٰہی، خودی کی تلاش اور روحانی بیداری کا ایسا رنگ ہے جو آج بھی دلوں کو چھو جاتا ہے، ان کے اشعار سے ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے اور روح کو گہری تسکین میسر آتی ہے۔

بلھے شاہ پنجاب کے معروف صوفی شاعر تھے جن کے کلام میں عشقِ الٰہی، خودی کی تلاش اور روحانی بیداری کا ایسا رنگ ہے جو آج بھی دلوں کو چھو جاتا ہے، ان کے اشعار سے ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے اور روح کو گہری تسکین میسر آتی ہے۔

بلھے شاہ

کلام 3

 

کافی 76

دوہا 23

منہ دکھلاوے اور چھپے چھل بل ہے جگدیس

پاس رہے ہر نہ ملے اس کو بسوے بیس

  • شیئر کیجیے

उस दा मुख इक जोत है, घुंघट है संसार ।

घुंघट में ओह छुप्प गया, मुख पर आंचल डार ।।

  • شیئر کیجیے

उन को मुख दिखलाए हैं, जिन से उस की प्रीत ।

उनको ही मिलता है वोह, जो उस के हैं मीत ।।

  • شیئر کیجیے

बुल्लया अच्छे दिन तो पिच्छे गए, जब हर से किया न हेत

अब पछतावा क्या करे, जब चिड़ियाँ चुग गईं खेत

  • شیئر کیجیے

ना खुदा मसीते लभदा, ना खुदा विच का'बे।

ना खुदा कुरान किताबां, ना खुदा निमाज़े ।।

  • شیئر کیجیے

شبد 7

دوہرا 12

اٹھوارا 1

 

بارہ ماسا 1

 

کتاب 1

 

ویڈیو 164

This video is playing from YouTube

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ صوفی شعرا

Recitation

بولیے