Font by Mehr Nastaliq Web
Data Sahib's Photo'

داتا صاحب

1009 - 1072 | لاہور, پاکستان

پاکستان کے مشہور صوفی اور کشف المحجوب کے مصنف

پاکستان کے مشہور صوفی اور کشف المحجوب کے مصنف

داتا صاحب کے صوفی اقوال

40
Favorite

باعتبار

نیکی کا کام کرنے میں صرف خدا ہی مددگار ہے۔

ولی کو صرف ولی ہی پہچانتا ہے۔

جب تک خدا بندے کی طرف اپنا کرم نہ کرے، بندے کی محنت بے کار ہے۔

لفظ ’’صوفی‘‘ کی کوئی ایسی جڑ یا ماخذ نہیں جو عام لغوی اصولوں کے دائرے میں آتی ہو، کیوں کہ صوفیانہ طریقہ اتنا بلند پایہ اور ماورائی ہے کہ اسے کسی عام جنس یا زمرے سے ماخوذ قرار دینا ممکن نہیں، یہ ایک ایسا راز ہے جو زبان کے اسباق سے بالاتر ہے۔

یہ دنیا ہے غم کا مسکن، دکھ کا آشیانہ، درد کی پناہ گاہ، جدائی کا گھر اور آزمائشوں کی جھولی۔

وہی لوگ نکاح کے لائق ہیں جو انسانوں کے ساتھ میل جول کو پسند کرتے ہیں اور جو بندگی کی تنہائی کو اختیار کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے تجرد ایک زیور ہے۔

معجزات میں جلوہ ہے، کرامات میں راز۔

صبر ایک عجیب چیز ہے۔

بندے کے لیے سب سے زیادہ دشوار چیز خدا کی پہچان ہے۔

درویش کی چوکھٹ ہر معنی میں استعارہ ہے فقر کا اور اس کے تمام ذیلی پہلوؤں میں ایک ماورائی حقیقت پوشیدہ ہے۔

اس ذاتِ حقیقی کے روبرو ہمیشہ عاجزی سے دعا مانگنا چاہیے۔

آنکھ کی خواہش دیکھنا ہے، کان کی خواہش سننا، ناک کی خواہش سونگھنا، ذائقے کی خواہش چکھنا، جسم کی خواہش چھونا ہے اور عقل کی خواہش سوچنا ہے۔

دنیا کے سب کاموں کی زیب و زینت ادب سے ہے۔

فقیری مشکل ہے۔

بلا پوچھے کوئی بات کرنا اور بے مقصد بولتے رہنا جاہلیت کی نشانی ہے۔

عمل - بغیر اپنے علم کے عمل نہیں ہوتا، اس لیے عمل اس وقت عمل ہوتا ہے جب کہ علم کے ساتھ شامل ہو۔

پہلے صوفیانہ عمل پہچانا جاتا تھا اور دکھاوا ناواقف تھا، آج دکھاوا جانا پہچانا ہے اور صوفیانہ عمل غائب ہو چکا ہے۔

خدا نے اپنے صوفیہ کو نظامِ کائنات کا نگران و نگہبان بنایا ہے۔

آنکھ کی ہوس ہے نظر، کان کی چاہ ہے سماعت، ناک کی تمنا ہے خوشبو، زبان کی آرزو ہے گفتگو، ذائقے کی چاہ ہے لذت، جسم کی تمنا ہے لمس اور دل کی طلب ہے سوچ۔

طالب عقبیٰ کا مت ہو، عقبیٰ کو عقوبت یعنی عذاب سمجھ، طالب مولیٰ کار ہو کیوں کہ اس کا طالب مذکر اور دانا اور بہادر ہوگا۔

انسان کے لیے سب سے مشکل چیز خدا کی پہچان ہے، خدا کے راستہ پر چلنے والوں کا پہلا مقام توبہ ہے اور دوسرا خدا کے خاص بندے خاص فرشتوں سے افضل ہیں اور عام بندے عام فرشتوں سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔

عارف کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ آفت سے محفوظ ہو۔

جو اپنے وجود کو پسند کرتا ہے اسے خدا پسند نہیں کرتا جیسے شیطان۔

نفس کی مخالفت ہی سب عبادتوں کا اصل اور تمام مجاہدوں کا کمال ہے۔

جماعت میں ساتھیوں سے آگے نہ بھاگنا چاہیے۔

دنیا ایک کشتی ہے جو کہ پانی پر ہو اور ملک ہے جو بے آب ہو تو غواص غوطہ خور ہو جاؤ اور غرق ہو جانے والا مت ہو۔

نفس کو اس کی خواہشوں سے دور رکھنا جنت کے دروازہ کی چابی ہے اور جس قدر نفس زیادہ مقہور ہو اسی قدر عبادت کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔

ہر کام اس کے فضل و عنایت سے ہوتا ہے نہ کہ مجاہد ے سے، اگر مجاہدے سے کام ہوتا تو شیطان نہ راندھا جاتا۔

ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنا باطن درست کرے اور تحقیق کی طلب رکھے اور رسومِ ظاہریہ سے پرہیز کرے۔

بلا صحبت پاک لوگوں کی مرید کا تنہا رہنا اسے ہلاک کر دیتا ہے۔

خدا کے ڈر سے آنسو بہا کہ یہ شئے روح کی کدورت کو دھو دیتی ہے۔

شیطان کا بند کرنا اور خواہشاتِ نفسانی کا روکنا بغیر بھوکے رہنے کے ممکن ہی نہیں۔

علم بہت ہیں اور انسانی عمر تھوڑی ہے، اس لیے تمام علوم کا سیکھنا انسان پر فرض نہیں البتہ اس حد تک علم ضروری ہے جس سے عمل درست ہو جائے۔

حکم کی عظمت اسی وقت زیادہ ہوتی ہے جب انسان خدا کو پہچان لے۔

خدا کی بارگاہ کا ادب ہر حال میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔

وہ شخص کبھی بھی تحقیق کے درجہ تک نہیں پہنچ سکتا جو صرف ظاہری چیزوں پر کفایت کرے۔

جو انسان اپنے آپ کو نہیں پہچانتا وہ خدا کو بھی نہیں پہچان سکتا۔

خرقہ پوشی صرف تارک الدنیا اور مشتاقانِ جمالِ الٰہی ہی کو موزوں و مناسب ہے۔

پروانہ ہمیشہ شمع کی طرف ہی جاتا ہے۔

انسان ہمیشہ کعبہ دیکھتے ہیں اور خدا ہمیشہ دل دیکھتا ہے۔

جس کو خدا سے محبت ہو، لوگوں سے میل جول اس کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

غیض و غضب کی حالت میں جس شخص نے حق و صداقت کو ہاتھ سے چھوڑ دیا اور انصاف کا خون کر دیا، وہ مؤمن نہیں بلکہ جھوٹ کا سہارا لیے ہوئے ہے۔

لوگوں کے ساتھ ادب کا مطلب مروت سے پیش آنا اور خدا کے ساتھ ادب کے معنی اس کے احکام کی پیروی کرنا ہے۔

درویش کی ہلاکت دل کی خرابی میں ہے۔

مبتدیوں کو چاہیے کہ راگ اور سماع سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ راستہ کے لیے سخت خطرناک ہے۔

جو خود کو خواہشات سے بچا لے، یقیناً جنت اس کا ٹھکانا ہے۔

راستے میں دوسروں کو اپنا انتظار نہ کرائے اور نہ ہی بات کرنے کے لیے کسی کو روکے۔

بھوک صدیقوں کا طعام ہے، مریدوں کا راستہ اور شیطان کی قید کرنے کا ذریعہ۔

محبت ایک خدا کا تحفہ ہے، یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے حاصل کیا جا سکے۔

غافل امراؤ، کاہل فقرا اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز کرنا عبادت میں داخل ہے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے