محمد اکبر وارثی کے اشعار
حسینوں میں وہ گل سب سے جدا ہے اپنی رنگت کا
ادا کا ناز کا عشوہ کا شوخی کا شرارت کا
میں ہمیشہ اسیر الم ہی رہا مرے دل میں سدا تیرا غم ہی رہا
مرا نخل امید قلم ہی رہا میرے رونے کا کوئی ثمر نہ ملا
ہرے کپڑے پہن کر پھر نہ جانا یار گلشن میں
گلوئے شاخ گل سے خون ٹپکے گا شہادت کا
ادا غمزے کرشمے عشوے ہیں بکھرے ہوئے ہر سو
صف مقتل میں یا قاتل ہے یا انداز قاتل ہے
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere