تمام
غزل42
شعر10
ای-کتاب6
ویڈیو 5
تعارف
کلام15
بلاگ2
فارسی کلام6
صوفیوں کے مکتوب2
بیت3
نعت و منقبت2
بسنت3
ہولی18
گیت50
شاہ تراب علی قلندر کے اشعار
سپنے میں آنکھ پیا سنگ لاگی
چونکی پڑی پھر سوئی نہ جاگی
سییاں سنگ کس مورا لاگو نینوا
آنکھ لغت نہیں نیند پڑت نہیں
آنکھ اٹھائے کے دیکھت ناہیں
لاج بھرا شرمایا بنرا
محبت جب ہوئی غالب نہیں چھپتی چھپانے سے
فغان و آہ و نالہ ہے ترے عاشق کا نقارا
نہ ہوتا آئینہ ہرگز مقابل
تو اپنا حسن چمکایا تو ہوتا
کوئی جاگہہ نہیں پر اس سے خالی
زمین ہو عرش ہو یا آسماں ہو
جب سو گئے تم آنکھ لگائے
کیسے ترابؔ پیا کو بھولوں
کاہے تو موسے آنکھ چراوت
سن مکھ تورے میں آپے نہ ہونگی
ایسے نٹھر سے کام پڑو ہے
آنکھ لگائے میں جی سو گئی
شری ورشبھانو کشوری رے لوگو
موری تو آنکھ تراب سو لاگی
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere