Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Shah Turab Ali Qalandar's Photo'

شاہ تراب علی قلندر

1767 - 1858 | کاکوری, بھارت

اودھ کےمعروف صوفی شاعر

اودھ کےمعروف صوفی شاعر

شاہ تراب علی قلندر کے اشعار

باعتبار

سپنے میں آنکھ پیا سنگ لاگی

چونکی پڑی پھر سوئی نہ جاگی

سییاں سنگ کس مورا لاگو نینوا

آنکھ لغت نہیں نیند پڑت نہیں

آنکھ اٹھائے کے دیکھت ناہیں

لاج بھرا شرمایا بنرا

محبت جب ہوئی غالب نہیں چھپتی چھپانے سے

فغان و آہ و نالہ ہے ترے عاشق کا نقارا

نہ ہوتا آئینہ ہرگز مقابل

تو اپنا حسن چمکایا تو ہوتا

کوئی جاگہہ نہیں پر اس سے خالی

زمین ہو عرش ہو یا آسماں ہو

جب سو گئے تم آنکھ لگائے

کیسے ترابؔ پیا کو بھولوں

کاہے تو موسے آنکھ چراوت

سن مکھ تورے میں آپے نہ ہونگی

ایسے نٹھر سے کام پڑو ہے

آنکھ لگائے میں جی سو گئی

شری ورشبھانو کشوری رے لوگو

موری تو آنکھ تراب سو لاگی

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے