Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Wasif Ali Wasif's Photo'

واصف علی واصف

1929 - 1993 | لاہور, پاکستان

پاکستان کی مشہور روحانی شخصیت اور ممتاز مصنف

پاکستان کی مشہور روحانی شخصیت اور ممتاز مصنف

واصف علی واصف کے صوفی اقوال

597
Favorite

باعتبار

بیدار کردینے والا غم غافل کردینے والی خوشی سے بدرجہا بہتر ہے۔

بدی کی تلاش ہو تو اپنے اندر جھانکو، نیکی کی تمنا ہو تو دوسروں میں ڈھونڈو۔

وہ شخص اللہ کونہیں مانتا جو اللہ کا حکم نہیں مانتا۔

لوگ دوست کو چھوڑ دیتے ہیں بحث کو نہیں چھوڑتے۔

بہترین کلام وہی ہے جس میں الفاظ کم اور معنیٰ زیادہ ہوں۔

اتنا پھیلو کہ سمٹنا مشکل نہ ہو، اتنا حاصل کرو کہ چھوڑتے وقت تکلیف نہ ہو۔

اچھے لوگوں کا ملنا ہی اچھے مستقبل کی ضمانت ہے۔

دل سے کدورت نکال دو۔۔۔سکون مل جائے گا۔

دنیا قدیم ہے لیکن اس کا نیا پن کبھی ختم نہیں ہوتا۔

ہمارے بعد دنیا ویسی ہی قائم و دائم رہے گی، جیسی ہمارے آنے سے پہلے تھی۔

دوسروں کی خامی آپ کی خوبی نہیں بن سکتی۔

ہم لوگ فرعون کی زندگی چاہتے ہیں اور موسیٰ کی عاقبت۔

ہم صرف زبان سے اللہ اللہ کہتے رہتے ہیں، اللہ لفظ نہیں، اللہ آواز نہیں، اللہ پکار نہیں، اللہ تو ذات ہے مقدس و ماورا، اس ذات سے دل کا تعلق ہے زبان کا نہیں، دل اللہ سے متعلق ہوجائے تو ہمارا سارا وجود دین کے سانچے میں ڈھل جانا لازمی ہے۔

اس کی عطاؤں پر الحمدلللہ اور اپنی خطاؤں پر استغفراللہ کرتے ہی رہنا چاہیئے۔

خیال بدل سکتا ہے لیکن امر نہیں ٹل سکتا۔

انسان کا دل توڑنے والا شخص اللہ کی تلاش نہیں کرسکتا۔

دین و دنیا۔۔۔ جس شخص کے بیوی بچے اس پر راضی ہیں، اس کی دنیا کامیاب ہے اور جس کے ماں باپ اس پر خوش ہیں اس کا دین کامیاب۔

آپ کا اصل ساتھی اور آپ کا صحیح تشخص آپ کے اندر کا انسان ہے، اسی نے عبادت کرنا ہے اور اسی نے بغاوت، وہی دنیا والا بنتا ہے اور وہی آخرت والا، اسی اندر کے انسان نے آپ کو جزا و سزا کا مستحق بنانا ہے، فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ کا باطن ہی آپ کا بہترین دوست ہے اور وہی بدترین دشمن، آپ خود ہی اپنے لئے دشواری سفر ہو اور خود ہی شادابی منزل، باطن محفوظ ہوگیا، تو ظاہر بھی محفوظ ہوگا۔

دور سے آنے والی آواز بھی اندھیرے میں روشنی کا کام کرتی ہے۔

بچہ بیمار ہو تو ماں کو دعا مانگنے کا سلیقہ خود بخود آ جاتا ہے۔

دعا کرنے سے بہتر ہے کہ کسی دعا کرنے والے کو پالیا جائے۔

ہم ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں اگر ہم معاف کرنا اور معافی مانگنا شروع کر دیں۔

عروج اس وقت کو کہتے ہیں جس کے بعد زوال شروع ہوتا ہے۔

نا پسندیدہ انسان سے پیار کرو اس کا کردار بدل جائے گا۔

انسان لائحۂ عمل یا نظریے سے محبت نہیں کرسکتا، انسان صرف انسان سے محبت کر سکتا ہے۔

کسی کے احسان کو اپنا حق نہ سمجھ لینا۔

جو شخص اس لئے اپنی اصلاح کر رہا ہے کہ دنیا اس کی تعریف و عزت کرے تو اس کی اصلاح نہیں ہوگی، اپنی نیکیوں کا صلہ دنیاسے مانگنے والا انسان نیک نہیں ہو سکتا، ریا کار اس عابد کو کہتے ہیں جو دنیا کو اپنی عبادت سے مرعوب کرنا چاہے۔

معاف کردینے والے کے سامنے گناہ کی کیا اہمیت؟ عطا کے سامنے خطا کا کیا ذکر؟

خوش نصیب انسان وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش رہے۔

سب سے پیارا انسان وہ ہوتا ہے جس کو پہلی ہی بار دیکھنے سے دل یہ کہے۔ ’’میں نے اسے پہلی بار سے پہلے بھی دیکھا ہوا ہے‘‘۔

سننے والے کا شوق ہی بولنے والے کی زبان تیز کرتا ہے۔

مغرب کے ساتھ اس وقت مقابلہ کرو جب آپ مشرق بن جاؤ۔

آج کا انسان صرف مکان میں رہتا ہے اس کا گھر ختم ہوگیا۔

حضور کی بات پر کسی اور کی بات کو فوقیت دینا ایسے ہے جیسے شرک۔

چھن جانے کے بعد بہشت کی قدر ہوتی ہے۔

اپنی ہستی سے زیادہ اپنا نام نہ پھیلاؤ نہیں تو پریشان ہوجاؤگے۔

سورج دور ہے لیکن دھوپ قریب ہے۔

موت سے زیادہ خوفناک شے موت کا ڈر ہے۔

انکار اقرار کی ایک حالت ہے، اس کا ایک درجہ ہے، انکار کو اقرار تک پہنچانا، صاحبِ فراست کا کام ہے، اسی طرح کفر کو اسلام تک لانا، صاحبِ ایمان کی خواہش ہونا چاہیئے۔

سب سے بڑی قوت، قوتِ برداشت ہے۔

انسان جتنی محنت خامی چھپانے میں صرف کرتا ہے اتنی محنت میں خامی دور کی جاسکتی ہے۔

کسی شے سے اس کی فطرت کے خلاف کام لینا ظلم ہے۔

توبہ جب منظور ہوجاتی ہے تو یادِ گناہ بھی ختم ہوجاتی ہے۔

کسی کا سکون برباد نہ کرو۔۔۔سکون مل جائے گا۔

الفاظ ہی کے دم سے انسان کو جانوروں سے زیادہ ممتاز بنایا گیا۔

کائنات کا کوئی غم ایسا نہیں ہے جو آدمی برداشت نہ کرسکے۔

زندگی خدا سے ملی ہے خدا کے لئے استعمال کریں، دولت خدا سے ملی ہے خدا کی راہ میں استعمال کریں۔

جس نے اپنی زندگی کو قبول کرلیا اس نے خدا کو مان لیا۔

کچھ لوگ زندگی میں مردہ ہوتے ہیں اور کچھ مرنے کے بعد بھی زندہ۔

ایک انسان نے دوسرے سے پوچھا ’’آپ نے زندگی میں پہلا جھوٹ کب بولا‘‘؟ دوسرے نے جواب دیا ’’جس دن میں نے یہ اعلان کیا کہ میں ہمیشہ سچ بولتا ہوں‘‘

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے