Sufinama
noImage

عبدالہادی کاوش

رام پور, بھارت

رام پور کا ایک قادرالکلام شاعر

رام پور کا ایک قادرالکلام شاعر

تخلص : 'کاوش'

اصلی نام : عبد الہادی خاں

وفات : اتر پردیش, بھارت

مولانا عبدالہادی خاں کاوش رام پوری کے والد کانام پیرمحمد خاں تھا، یہ پیٹھانی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ قلعہ سیف اللہ خاں کوئٹہ بلوچستان سے بغرض تعلیم 1930ء میں رام پور آۓ۔ تعلیم حاصل کی اور رام پور کو ہی وطن ثانی بناکر یہیں کے ہو رہے۔ آپ کی شادی رام پور میں عبداللطیف خاں کی صاحبزادی سے ہوئی۔ جن کے بطن سے چار لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ دو لڑکیاں اور ایک لڑکا صغرسنی میں ہی فوت ہوگئے۔ باقی تین لڑکوں میں سے عبدالہادی خاں کاوش منجھلے لڑکے تھے۔ دو بھائی اور بہن پاکستان چلے گئے۔ کاوش نےابتدائی تعلیم گھر میں پائی۔ پھر مدرسہ مطلع العلوم میں تعلیم حاصل کی۔ مدرسہ عالیہ رام پور سے فارغ التحصیل ہوئے۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے فاضل تفسیر کیا اور الہ آباد بورڈ سے عالم و فاضل دینیات، آگرہ یونیورسٹی سے بی، اے اور روہیل کھنڈ یونیورسٹی سے اردو میں ایم، اے کی ڈگری حاصل کی۔ جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب کامل کا امتحان پاس کیا۔ کئی سال مدرسہ جامع العلوم اور مدرسہ جامعۃ المعارف رام پور میں عربی کے مدرس رہے۔ مدرسہ مطلع العلوم میں بھی حدیث کا درس دیا۔ انہیں اکابر علما و صوفیا کی صحبت بھی حاصل رہی۔ حضرت سید حبیب حسن اور حضرت شاہ عابد علی خاں سے کافی عقیدت رکھتے تھے۔ انہیں سے بیعت بھی کرچکے تھے۔ سلسلہ چشتیہ قادریہ کے زبردست پیروکار تھے۔ ان دوبزرگ کے علاوہ شاہ وجیہہ الدین احمد خاں مجددی رامپوری اور شاہ عبدالقدیر پیلی بھیتی سے اکتساب فیض کیا۔ شعر و شاعری میں حکیم محمود علی خاں کوکب بلاس پوری(متصل رام پور) کے شاگرد ہوۓ۔ کاوش صرف شاعر ہی نہیں تھے بلکہ ایک متدین عالم اور علوم مشرقیہ کے استاد بھی تھے۔ انہیں علم و ادب، شعر و سخن، حقیقت و معرفت سے بے پناہ دلچسپی تھی۔ عبدالہادی خاں کاوش لکھتے ہیں کہ " یہ عشق حقیقی مرشد کامل کا عطیہ ہوتا ہے۔ اس لئے طالب صادق پر لازم ہے کہ وہ کافی غور و خوض کے بعد صدق دل سے کسی مرشد کامل کا دامن تھام لے۔ مرشد کامل کی مثال پھل دینے والے سایہ دار درخت کی سی ہے جو پھل بھی دیتاہے اور سایہ بھی، مرشد کامل طالب صادق کو راہ سلوک میں شیطانی وسوسہ سے بھی بچاتا ہے اور وصل مطلوب کا ثمر بھی بہم پہونچاتاہے " نعت گوئی اورغزل گوئی میں طبع آزمائی خوب کرتے تھے۔ آپ کے کلام میں تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔ کاوش نے چوں کہ اپنی عمرعلماے کرام اور صوفیاے عظام کی صحبتوں میں بِتائی اس لئے آپ کو شریعت اسلامیہ کے ساتھ ساتھ سلوک و معرفت سے بھی قلبی لگاؤ تھا جس کا لازمی نتیجہ عشق رسول اور محبت رسول ہے جو کاوش کے مجموعہ کلام میں شامل نعتوں اور غزلیات سے ظاہر ہے۔

موضوعات