Font by Mehr Nastaliq Web
Abdul Hadi Kavish's Photo'

عبدالہادی کاوش

رام پور, بھارت

رام پور کا ایک قادرالکلام شاعر

رام پور کا ایک قادرالکلام شاعر

عبدالہادی کاوش کے اشعار

باعتبار

یہی ایمان ہے اپنا یہی اپنا عمل کاوشؔ

صنم کے اک اشارے پر ہر اک شے کو لٹا دینا

جسم کا ریشہ ریشہ مچلے درد محبت فاش کرے

عشق میں کاوشؔ خاموشی تو سخنوری سے مشکل ہے

اسیر گیسوئے پرخم بنائے پہلے عاشق کو

نکالے پھر وہ پیچ و خم کبھی کچھ ہے کبھی کچھ ہے

چاند سا مکھڑا اس نے دکھا کر پھر نیناں کے بان چلا کر

سنوریا نے بیچ بجریا لوٹ لیو بس نردھن کو

تو کو بتاؤں سن رے سکھی ری مرشد پیا کی صورت کس کی

یہی ہے صورت شیر خدا کی بانکی چتون کاری اکھیاں

یہ آداب محبت ہے ترے قدموں پہ سر رکھ دوں

یہ تیری اک ادا ہے پھیر کر منہ مسکرا دینا

تو لاکھ کرے انکار مگر باتوں میں تری کون آتا ہے

ایمان مرا یہ میرا یقیں تو اور نہیں میں اور نہیں

اپنے ہاتھوں مہندی لگائی مانگ بھی میں نے دیکھو سجائی

آئے پیا گھر رم جھم برسے جاؤ بتا دو ساون کو

اٹھ کے اندھیری راتوں میں ہم تجھ کو پکارا کرتے ہیں

ہر چیز سے نفرت ہم کو ہوئی ہم جنت فردا بھول گئے

آگ لگی وہ عشق کی سر سے میں پاؤں تک جلا

فرط خوشی سے دل مرا کہنے لگا جو ہو سو ہو

دین و ایماں کیا اور کیا ہے دھرم کھول دیا اب تو نام خدا نے بھرم

چشم مرشد نے کی ایسی جادوگری کچھ بھی مجھ کو نہ بھائے تو میں کیا کروں

ساغر شراب عشق کا پی ہی لیا جو ہو سو ہو

سر اب کٹے یا گھر لٹے فکر ہی کیا جو ہو سو ہو

چاند سا مکھڑا اس نے دکھا کر پھر نیناں کے بان چلا کر

سنوریا نے بیچ بجریا لوٹ لیو اس نردھن کو

اٹھ کے اندھیری راتوں میں ہم تجھ کو پکارا کرتے ہیں

ہر چیز سے نفرت ہم کو ہوئی ہم جنت فردا بھول گئے

آکاش کی جگ مگ راتوں میں جب چاند ستارے ملتے ہیں

دل دے دے صنم کو تو بھی یہ قدرت کے اشارے ملتے ہیں

جاکو کوئی پکڑے تو کیسے کام کرت ہے نظر نہ آئے

چپکے چپکے سیندھ لگاوے دن ہووے یا اندھیری رتیاں

علم اور فضل کے دین و ایمان کے عقل پر میری کاوشؔ تھے پردے پڑے

سارے پردے اٹھا کر کوئی اب مجھے اپنا جلوہ دکھائے تو میں کیا کروں

مل گیا راہ میں مجھ کو جب وہ صنم لاکھ دل کو سنبھالا کیا ضبط غم

دل میں حسرت لئے چند آنسو مگر دفعتاً مسکرائے تو میں کیا کروں

چلو آؤ کاوشؔ کہ کاندھا لگائیں

علی کی خدا نے اٹھائی ہے ڈولی

سرور و کیف کا نغمہ غم و اندوہ کا نوحہ

طلسم زیست کی سرگم کبھی کچھ ہے کبھی کچھ ہے

علی تو کو جانوں خدا تو کو جانوں

میں رکھتی ہوں جگ سے طبیعت نیاری

کوچے میں ترے اے جان غزل یہ راز کھلا ہم پر آ کر

غم بھی تو عنایت ہے تیری ہم غم کا مداوا بھول گئے

جیون کی الجھی راہوں میں جب گھور اندھیرا آتا ہے

ہاتھوں میں لئے روشن مشعل تو گرو ہمارے ملتے ہیں

اس پاپ کی نگری میں ہر اور اندھیرا ہے

اجیار میں بس وہ ہے جو تجھ کو پیا چاہے

جا کو کوئی پکڑے تو کیسے کام کرت ہے نظر نہ آئے

چپکے چپکے سیندھ لگاوے دن ہووے یا اندھیری رتیاں

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے