عبد اللہ بن مبارک کے صوفی اقوال
اہلِ دنیا - دنیا کی سب سے مرغوب اور لذیذ چیز ہے، لطف اندوز ہوئے بغیر یہاں سے رخصت ہو جاتے ہیں اور وہ معرفتِ الٰہی ہے۔
جو شخص تجھ سے کم تر ہو اس سے تواضع و انکساری سے پیش آ اور جو شخص تجھ سے بڑا ہے اس سے ادب و تواضع سے مل اور جو متکبر ہے اس کی پرواہ نہ کر۔
کوئی شخص عالم نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے دل میں خوفِ خدا اور دنیا سے بے رغبتی نہ ہو۔
گمنامی کو پسند کرو اور شہرت سے دور رہو مگر یہ ظاہر نہ کرو کہ تم گمنامی کو پسند کرتے ہو اس لیے کہ اس سے بھی نفس میں غرور پیدا ہوتا ہے۔
میں ایک مشتبہ درہم کو استعمال نہ کرنے کو سو درہم صدقہ کرنے کے مقابلہ میں زیادہ پسند کرتا ہوں۔
میں کسی چیز کے تلاش کرنے میں نہیں تھکا، بجز ایسے دوست کی تلاش کے جو صرف خدا کے لیے محبت کرتا ہو۔
جو شخص اپنے بچوں کی پرورش کرتا انہیں نیک باتیں سکھاتا اور رات کو سوتے وقت کپڑا پہناتا ہے اس کا یہ عمل ہمارے جادو قتال سے افضل ہے۔
اگر آدمی سو باتوں میں تقویٰ اور خوفِ خدا اختیار کرتا ہے اور ایک بات میں نہیں تو وہ متقی نہیں اور اگر کوئی شخص سو چیزوں میں پرہیزگاری اختیار کرتا ہے اور ایک چیز میں ترک کر دیتا ہے تو اس کو متورع اور پرہیزگار نہیں کہا جا سکتا۔
شریف وہ ہے جسے طاعتِ الٰہی کی توفیق ہوئی اور رذیل وہ ہے جس نے بے مقصد زندگی گزار دی۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere