Sufinama
Afqar Warsi's Photo'

افقر وارثی

1887 - 1971 | اتر پردیش, بھارت

تخلص : 'افقرؔ'

اصلی نام : سید حسین

وفات : اتر پردیش, بھارت

 

آپ کا اصلی نام سید حسین تھا۔ تخلص افقرؔ اور تاریخی نام’ظفر وارث‘تھا۔ آپ1887ءمیں موہان میں پیدا ہوئے۔’ تذکرہ شعرائے وارثیہ‘ میں آپ کو افقرؔ وارثی سے مخاطب کیا گیا ہے جب کہ آپ افقرؔ موہانی کے نام سے بھی معروف ہیں ۔ آپ کا تعلق موہان کے خاندان پیر زاد گان سے تھا۔ علوم رسمیہ اور درسیہ سے  بہرہ یاب تھے۔ عربی فارسی اور علم عروض کے فراغ یافتہ تھے۔ اوائل عمر ہی سے مزاج رندانہ اور صوفیانہ رکھتے تھے۔ جوں جوں فکرو شعور میں اضافہ ہوتا گیا اس سےمذاق پر بھی جلا ہوتی گئی۔ چنانچہ ’وحدت الوجو‘ آپ کی تصانیف میں سے ہے جو آپ کے شعور کو واضح کرتے ہیں ۔

 آپ کی غزلوں کا مجموعہ بھی  ’فردوس معانی‘ کے نام سے شائع ہو چکاہے۔ آپ حضرت تسلیم لکھنوی کے شاگردتھے اور یہ نسیمؔ دہلوی کے شاگرد اورنسیمؔ دہلوی حکیم مومن خاں مومنؔ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ اس طرح ان کے تلامذہ کے سلسلہ کا وجہ تھا کہ افقرؔ کے کلام میں لکھنؤ کے بجائے دہلوی رنگ کی جھلکیاں نمایاں ہیں۔ ان کا انداز بیان مومنؔ کے انداز بیان سے کافی مشابہت رکھتا ہے۔ اسی سبب سے ان کے کلام میں داخلیت کی گہرائیاں موجود ہیں۔ ایک شعر میں مومنؔ سے اپنی عقیدت کا اظہار فرماتے ہیں:

کلام میر ؔو مرزؔا قابل صد ناز ہے افقرؔ

مگر مومنؔ کا انداز بیاں کچھ اور کہتا ہے

مولانا افقر ؔ کے کلام پر مومنؔ کے علاوہ ایک اور خدا داد شخصیت اور زیادہ اثر انداز ہوئی جس نے ان کی زندگی کے دھارے کو ہی موڑ دیا۔ وہ کوئی اور نہیں  حضرت سید وارث علی شاہ تھے جن سے بیعت ہو ئے۔ ابتدا ہی سے ان کے خمیر میں صوفیانہ رنگ حاوی تھا پھر سید وارث علی شاہ کی محبت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ دیوہ کے عرس میں صدق دل اور خلوص و عقیدت کے ساتھ شرکت کرتے اور وارث شاہ کے حضور میں عقیدت کے نذرانے پیش کرتے ۔

ہندوستان میں تصوف کے پس منظر میں مولانا افقرؔ موہانی (وارثی) کی شاعری کا جائزہ لینے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ مولانا خالص تصوف کے شاعر ہیں اور ان کے رگ و پے میں خون کے بجائے تصوف کا رنگ دوڑ رہا ہے ۔ لہٰذا ان کی شاعری خاص صوفیانہ شاعری ہے یہی وجہ ہے وہ عوام میں کم مقبول ہوئی ورنہ حقیقت یہ ہے مولانا افقرؔ نے فکر و فن کے لحاظ سے اور نازک خیالی اور بلند پروازی کے اعتبار سے اصغرؔ گونڈوی، فانیؔ بدایونی، حسرتؔ موہانی، سیمابؔ اکبرآبادی نیز دوسرے بلند پایہ اپنے تمام معاصرین سے کم مرتبہ نہیں ہیں بلکہ شاعری کے بعض اہم مقابات میں وہ ان سے بھی بالاتر نظر آتے ہیں۔

مولانا افقر ؔموہانی قدیم تصوف کے شاعر کے پیروکار ہیں۔ انہوں نے تصوف کی اپنی الگ ایک دنیا آباد کی، نہ وہ اقبالؔ کے رنگ و آہنگ سے متاثر ہوئے اور نہ وہ اشتراکی شعرا کی آگ اور خون سے مرعوب ہوئے بلکہ وہ اپنی خانقاہ میں بیٹھ کر جلوۂ جاناں کا مشاہدہ کرتے رہے اور اپنے خون و جگر سے تصوف کی وادی میں حسن و جمال کے پھول کھلاتے رہے۔اول و ابتداہی سے ان کے خمیر میں صوفیانہ رنگ شامل تھا۔ آپ کا وصال1971 میں لکھنو میں ہوا۔