امن لکھنوی کا تعارف
امن لکھنوی اردو کے ممتاز ادیب، شاعر، صحافی، مترجم، سیاست داں اور مجاہدِ آزادی تھے، ان کی پیدائش 16 ستمبر 1898ء کو لکھنؤ میں ہوئی، ان کے والد منشی مہادیو پرشاد سریواستو "آسی" لکھنؤ میونسپل بورڈ میں ملازم تھے اور ہندی، اردو اور فارسی تینوں زبانوں پر یکساں عبور رکھتے تھے، وہ ان زبانوں میں شعر بھی کہتے تھے اور "آسی" تخلص اختیار کرتے تھے، اس طرح امن لکھنوی کو ایک علمی، ادبی اور تہذیبی خانوادے میں پرورش پانے کا موقع ملا، انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم لکھنؤ ہی میں حاصل کی اور 1916ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے دسویں جماعت کا امتحان کامیابی کے ساتھ پاس کیا، بعد ازاں 1926ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انٹرمیڈیٹ اور 1951ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کی سند حاصل کی، عملی زندگی کا آغاز بھی 1916ء میں ہوا، جب وہ لکھنؤ میں نقل نویس کے طور پر مقرر ہوئے، اس کے بعد میونسپل بورڈ میں کلرک کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، 1920ء میں مختاری کا امتحان کامیابی سے پاس کیا اور تقریباً ایک دہائی تک عدالت میں مختار کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے، 1933ء میں دہلی منتقل ہوئے، جہاں ان کی صحافتی زندگی کا ایک اہم باب شروع ہوا، ابتدا میں وہ روزنامہ "تیج" سے وابستہ ہوئے اور بعد ازاں اسی ادارے کے ہفت روزہ "تیج ویکلی" کے مدیر مقرر ہوئے، قیامِ ہند کے بعد بھی انہوں نے مختلف سرکاری اور عوامی مناصب پر گراں قدر خدمات انجام دیں، وہ پریس افسر، ریاستِ دہلی کے وزیرِ ترقیات، ڈپٹی اسپیکر، دہلی پبلک ریلیشنز کمیٹی کے چیئرمین اور دہلی پبلک لائبریری بورڈ کے صدر جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے، امن لکھنوی صرف ایک ادیب یا سیاست داں ہی نہ تھے بلکہ تحریکِ آزادی کے فعال کارکن بھی تھے، انہوں نے ملک کی آزادی کے لیے بھرپور جد و جہد کی اور اس راہ میں کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، علمی اعتبار سے تقابلی مطالعۂ مذاہب ان کا محبوب موضوع تھا، انہوں نے مختلف مذاہب کے مطالعے کے ذریعے رواداری، اخوت، اخلاقی اقدار اور باہمی احترام کے فروغ کی کوشش کی، ان کی سماجی، ادبی، صحافتی، تعلیمی اور سیاسی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں "پدم بھوشن" کے اعلیٰ شہری اعزاز سے سرفراز کیا، امن لکھنوی کو شعر و سخن کا ذوق وراثت میں ملا تھا، ان کے والد کے علاوہ خاندان کے بیشتر بزرگ بھی شاعری سے شغف رکھتے تھے، چنانچہ انہوں نے غزل، نظم، رباعی، قطعہ، حمد، نعت، سلام اور دیگر اصنافِ سخن میں کامیاب طبع آزمائی کی، ان کے متعدد شعری مجموعے اور تراجم شائع ہوئے جو ان کی علمی وسعت اور تخلیقی صلاحیت کا مظہر ہیں، "سیلِ عقیدت" ان کے حمدیہ، نعتیہ اور دیگر دینی کلام کا مجموعہ ہے، 7 جولائی 1983ء کو یہ عظیم ادیب، شاعر، صحافی، مترجم اور مجاہدِ آزادی اس دارِ فانی سے رخصت ہوگیا۔