Sufinama
Amir Hasan Ala Sijzi's Photo'

امیر حسن علا سجزی

1254 - 1337 | دہلی, بھارت

خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید اور فوائدالفواد کے جامع

خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید اور فوائدالفواد کے جامع

امیر حسن علا سجزی کا تعارف

تخلص : 'سجزی'

اصلی نام : حسن

پیدائش :بدایوں, اتر پردیش

وفات : مہاراشٹرا, بھارت

امیر حسن سجزی کا نام حسن اور لقب نجم الدین ہے مگر وہ امیر حسن علا کے نام سے مشہور ہیں۔ اس میں اسم ثانی علا ان کے پدر بزرگوار کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کا لقب علاوالدین تھا۔ امیر حسن بدایوں میں پیدا ہوئے۔ وہ نسبا ہاشمی ہیں۔ پیدائش 652ھ موافق 1254ء میں ہوئی۔ اس طرح وہ امیر خسرو سے ایک سال چھوٹے تھے۔ ابتدائی عمر میں ہی دہلی میں آگئے تھے اور تعلیم زیادہ تر یہیں حاصل کی۔ خواجہ نظام الدین اولیا سے ان کی واقفیت پرانی تھی مگر ملاقات دہلی میں ہوئی۔ امیر حسن نے مبدا فیاض سے نہایت حساس ذہن اور لطیف مذاق پایا تھا۔ فارسی اور عربی پر غیر معمولی قدرت حاصل ہوگئی تھی۔ تیرہ سال کی عمر سے شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ تعلیم سے فارغ ہوکر انہوں نے ملازمت اختیار کی۔ امیر خسرو کے ساتھ وہ بھی سلطان غیاث الدین بلبن کے لائق ولی عہد محمد خان شہید کے متوسل رہے جو انہیں دوات دار بنا کر ملتان لے گیا تھا۔ اس کی مصباحت میں پانچ سال تک رہے۔ محمد خاں شہید کی شہادت کے بعد امیر حسن بے روزگار ہوگئے۔ کچھ عرصہ کے بعد جلال الدین خلجی نے انہیں درباری ملازمت میں لے لیا۔ اس دربار میں گویے امیر حسن کی غزلیں گایا کرتے تھے۔ امیر حسن کا لطافت طبع میں جواب نہ تھا۔ عشق انگیز اشعار کہتے تھے اور ایسے لطائف و نکات ان کی گفتگو میں ہوتے تھے کہ بادشاہ اور شاہزادے بھی ان کی باتوں کو سننے کے مشتاق رہتے تھے۔ وہ اس دنیا میں مجرد رہے اور دیوگیر میں دفن ہوئے۔ غرض کہ امیر حسن ایک خوش مزاج، پاکیزہ اطوار، مرنجامرنج، قانع، متوکل، صلاح کوش اور صوفی منش انسان تھے۔ انہیں دربار سے امیر خسرو کی طرح انعام و اکرام نہیں ملے تھے بلکہ ان کے ایام تنگ دستی میں گزرتے تھے۔ اپنے افلاس کی طرف انہوں نے اپنے اشعار میں بھی اشارہ کیا ہے۔ وہ آزادانہ، مجردانہ اور قلندرانہ زندگی گزارتے تھے اور شیخ کے بتائے ہوئے اعمال و وظائف میں مشغول رہتے تھے۔ فوائدالفواد کی ایک مجلس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کے پاس ایک ملیح نامی غلام بھی تھا۔ امیر حسن علا سجزی اور امیر خسرو دونوں خواجہ نظام الدین اولیا کے مرید و مسترشد تھے اور اپنے شیخ کے نور نظر تھے۔ شیخ کی نگاہ ان دونوں پر خوب رہتی تھی۔ خواجہ نظام الدین اولیاء کے ملفوظات فوائد الفواد کے جامع امیر حسن سجزی ہی ہیں۔ آپ کا انتقال 738ھ موافق 1337ء میں ہوا اور مزار خلدآباد ضلع اورنگ آباد مہاراشٹر میں مرجع خلائق ہے۔

موضوعات

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے