Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

بابا بھاگو داس

لکھنؤ, بھارت

نگرام کے ہندو نائی اور حضرت مرزا محسن کے بے لوث خادم و عقیدت مند تھے، جن کی اخلاص بھری خدمت اور کرامت سے منسوب روایات کے ساتھ نعتیہ کلام بھی دستیاب ہے۔

نگرام کے ہندو نائی اور حضرت مرزا محسن کے بے لوث خادم و عقیدت مند تھے، جن کی اخلاص بھری خدمت اور کرامت سے منسوب روایات کے ساتھ نعتیہ کلام بھی دستیاب ہے۔

بابا بھاگو داس کا تعارف

اصلی نام : بھاگو داس

پیدائش :لکھنؤ, اتر پردیش

بابا بھاگو داس ایک ہندو نائی تھے، جن کا آبائی وطن قصبہ نگرام تھا، اگرچہ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک عام فرد تھے لیکن اپنی روحانی وابستگی، خدمت گزاری اور اخلاصِ عقیدت کے باعث اپنے عہد میں غیر معمولی احترام کے مستحق سمجھے جاتے تھے، انہیں عہد شاہجہانی میں نگرام تشریف لانے والے بزرگ حضرت مرزا محسن سے بے پناہ عقیدت تھی اور انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ان کی خدمت میں بسر کیا، بابا بھاگو داس حضرت مرزا محسن کے خورد و نوش اور دیگر ضروریات کے انتظام کے ذمہ دار تھے، خانقاہ کے مطبخ کے لیے گوشت کا بندوبست بھی وہی کیا کرتے تھے، اس خدمت پر بعض ہندو حضرات کو سخت اعتراض تھا، چنانچہ چند افراد نے انہیں رنگے ہاتھوں پکڑنے کا منصوبہ بنایا، ایک روز وہ اس راستے میں چھپ کر بیٹھ گئے جہاں سے بابا بھاگو داس گوشت لے کر خانقاہ کی طرف جایا کرتے تھے، جب وہ وہاں سے گزرے تو ان لوگوں نے انہیں گھیر لیا، تلواریں سونت لیں اور اصرار کیا کہ وہ اپنے ہاتھ میں موجود دونا کھول کر دکھائیں تاکہ حقیقت سب پر آشکار ہو جائے، بابا بھاگو داس نے انہیں بہت سمجھایا، منت سماجت کی اور دونا کھولنے سے گریز کیا لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہے، بالآخر جب دونا کھولا گیا تو وہاں موجود افراد سخت حیرت اور شرمندگی میں مبتلا ہوگئے، کیوں کہ جس برتن میں وہ گوشت ہونے کا گمان کر رہے تھے، وہ مختلف اقسام کی مٹھائیوں سے بھرا ہوا تھا، اس واقعے کو ان کے اخلاص، بزرگ کی کرامت اور پاکیزہ نیت کی علامت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اور یہ روایت عوامی حافظے میں آج بھی محفوظ ہے، بابا بھاگو داس کی بے لوث خدمات اور عقیدت کے اعتراف میں مغل بادشاہ نے انہیں ایک جاگیر عطا کی جو بعد میں "نائن چک" کے نام سے مشہور ہوئی، انہوں نے تقریباً ایک صدی پر محیط عمر پائی اور اپنی وصیت کے مطابق حضرت مرزا محسن کے مزار کے قدموں میں سپردِ خاک کیے گئے، اگرچہ بابا بھاگو داس بنیادی طور پر ایک صاحبِ خدمت اور صاحبِ عقیدت شخصیت تھے، تاہم ان سے منسوب نعتیہ کلام بھی دستیاب ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے