Font by Mehr Nastaliq Web
Baba Farid's Photo'

بابا فرید

1173 - 1266 | کوٹھے وال, پاکستان

بارہویں صدی کے مبلغ اور صوفی بزرگ تھے، ان کو قرون وسطی کے سب سے ممتاز اور قابل احترام صوفیہ میں سے ایک کہا گیا ہے، ان کا مزار پاک پتن، پاکستان میں واقع ہے۔

بارہویں صدی کے مبلغ اور صوفی بزرگ تھے، ان کو قرون وسطی کے سب سے ممتاز اور قابل احترام صوفیہ میں سے ایک کہا گیا ہے، ان کا مزار پاک پتن، پاکستان میں واقع ہے۔

بابا فرید کے صوفی اقوال

138
Favorite

باعتبار

دنیا کی محبت ایک چھپی ہوئی بلا ہے جو خامشی سے دل کو ویران کر کے بندے کو رب سے بیگانہ کر دیتی ہے۔

ہر مقام پر موت کو یاد رکھ، کہ یہی غفلت کا علاج اور بیداری کا راز ہے۔

سکون چاہتا ہے؟ تو حسد چھوڑ دے، کہ حسد دل کا زہر ہے اور زہر میں آرام نہیں ہوتا۔

اپنے نفس سے نکل جانا، رب تک پہنچنے کا راستہ ہے، جو خود سے بچ گیا وہ خدا سے جا ملا۔

باطن سنوار، ظاہر خود نکھر جائے گا کہ خدا دل کو دیکھتا ہے، نہ کہ لباس کو۔

دشمن کی تلخی پر ضبط کر، کہ غصہ تیرا سکون چھین کر تجھے کمزور کر دیتا ہے اور صبر تیری ڈھال ہے جو تجھے شکست سے بچاتی ہے۔

دوسروں کا بھلائی کرنا دراصل اپنی روح کو سکون دینا ہے، کیوں کہ جو تم دوسروں کے لیے کرتے ہو، وہ تمہارے اندر کی صفائی ہے۔

تم جیسے ہو ویسا ہی ظاہر کرو، ورنہ تمہاری اصلیت لوگ ظاہر کر دیں گے۔

ہنسی مزاق اور غصہ کو کمزوری کی علامت سمجھو، کیوں کہ اصل قوت سکون اور ضبط میں ہے۔

نادان کو زندہ مت سمجھ، کہ جس دل میں معرفت کی روشنی نہ ہو، وہ جسم تو ہے مگر روح سے خالی ہے۔

اعلیٰ مقام کے لیے خودی کو پست نہ کرو۔

جھگڑے میں وہ حکمت نہیں جو صلح کی راہ چھوڑ دے کہ نرمی میں ہی انسانیت کی بلندیاں ہیں۔

ذلت سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی کے سامنے دستِ سوال نہ پھیلاؤ۔

جس کام میں دل کی ناپسندیدگی ہو، اسے فوراً ترک کر دو، کیوں کہ دل کی صاف گوئی میں ہی سچائی ہے۔

نفس کی خواہشات کو تسکین نہ دو، کیوں کہ یہ کبھی بھی سیراب نہیں ہوتا اور ہر نئی خواہش کے ساتھ اس کی طلب بڑھتی رہتی ہے۔

اگر زندگی ہے تو علم میں ہے، اگر راحت ہے تو معرفت میں ہے، اگر شوق ہے تو محبت میں ہے اور اگر ذوق ہے تو ذکر میں ہے۔

درویش کو مر جانا بہتر ہے مگر لذت نفس کے لیے قرض نہ لے، کیوں کہ قرض اور توکل میں مشرق و مغرب کا فرق ہے۔

اگر عظمت کی آرزو ہے، تو وہ ان کے ساتھ رہ کر حاصل کر جو دنیا کی نظروں میں پست ہیں، کیوں کہ خدا کی نظر میں وہی بلند ہیں۔

وہ شخص بابرکت ہے جسے اپنی لغزشوں کا اتنا ادراک ہو کہ وہ دوسروں کی کمزوریوں کو ظاہر نہ کرے، کیوں کہ یہ انسانیت کی اصل ہے۔

مصیبت کو تحفہ سمجھ کر قبول کر۔

زندہ دل وہی ہے جس میں محبت و اشتیاق ہو۔

صحت کو خدا کا انعام جانو، کہ جب تک جسم سالم ہو، روح کی پرواز ممکن ہے۔

اپنے دل کو شیطان کا کھلونا مت بناؤ۔

جب خدا کی طرف سے کوئی آزمائش آئے، تو اسے قبول کرو، کیوں کہ وہ تمہیں اس کی قربت تک پہنچانے کا راستہ ہے۔

ہر دن نئی روحانی کامیابی کی آرزو رکھو۔

صوفیانہ سرود دلوں کو بیدار کرتا ہے اور دلوں میں عشق کی شعلہ کو پھونکتا ہے۔

اپنی کمزوریوں پر نظر رکھو، کیوں کہ جو خود کو پہچانتا ہے، وہ خدا کو زیادہ قریب پاتا ہے۔

عجب کا جواب عجب سے دو، تاکہ تکبر کی حقیقت سامنے آ سکے۔

نظام الدین! تمہاری شکل میں میں ایک سایہ دار درخت لگا رہا ہوں، خدا کے بندے اس کی چھاؤں میں آرام کریں گے۔

انسان کو کام کرنا چاہیے اور لوگوں کی باتوں میں نہ کھو جانا چاہیے۔

دشمن سے مشورہ کر کے فتح پاؤ اور دوست کو اپنی مروت سے دل میں جگہ دو۔

رسوم و علوم کچھ نہیں، اخلاق اصل ہے، اسی سے نجات ملتی ہے۔

وہ کام کرو جو تمہیں دنیا کی نہیں بلکہ آخرت کی زندگی عطا کرے۔

وہ چیز فروخت نہ کرو جو خریدی نہ جا سکتی ہے۔

نیکی کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈو۔

جب دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو تو یہ سمجھو کہ تم اپنے ساتھ بھلائی کر رہے ہو۔

دشمن چاہے جتنا بھی مخلص ہو، خود کو اس سے محفوظ نہ سمجھو۔

اپنے نفس سے بھاگنا خدا تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔

وہ شے بیچنےکی کوشش نہ کرو جسے لوگ خریدنے کی خواہش نہ کریں۔

نیک آدمی کے ساتھ فیاضی اختیار کرو، کہ اس کی دل آویزی میں برکت ہے۔

جب بھی کوئی مصیبت آئے تو سمجھو کہ یہ تمہارے گناہوں کی سزا ہے۔

جس دل میں خدا کا ذکر جاری رہتا ہے وہ دل زندہ ہے اور شیطانی خواہشات اس پر غلبہ نہیں پا سکتیں۔

جو لقمۂ حرام سے پرہیز کرتا ہے اور جو اہلِ دنیا سے اجتناب کرتا ہے وہ راہِ سلوک میں ہے۔

انسانوں میں رذیل ترین وہ ہے جو کھانے پینے اور پہننے میں مشغول رہے۔

دوسروں سے اچھائی کرتے ہوئے سوچو کہ تم اپنی ذات سے اچھائی کر رہے ہو۔

وہ لوگ جو دوسروں کے سہارے جینے کا ارادہ رکھتےہیں وہ تساہل پرست، کم ظرف اور مایوس ہوتے ہیں۔

طمانیت قلب چاہتے ہو تو حسد سے دور رہو۔

جب آدمی تین باتوں سے اجتناب کرتا ہے تو خدا اس سے تین چیزوں کو اٹھا لیتا ہے۔

(۱) جو شخص زکوٰۃ نہیں دیتا تو کدا اس کے مال سے برکت اٹھا لیتا ہے۔

(۲) جو شخص قربانی نہیں کرتا خدا اس سے عافیت اٹھا لیتا ہے۔

(۳) جو شخص نماز نہیں پڑھتا خدا مرنے کے وقت اس سے ایمان کو جدا کر دیتا ہے۔

وقت کا کوئی بدل نہیں ہوتا۔

ہر کسی کی روٹی نہ کھا بلکہ ہر شخص کو اپنی روٹی کھلا۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے