Font by Mehr Nastaliq Web
Baba Farid's Photo'

بابا فرید

1173 - 1266 | کوٹھے وال, پاکستان

بارہویں صدی کے مبلغ اور صوفی بزرگ تھے، ان کو قرون وسطی کے سب سے ممتاز اور قابل احترام صوفیہ میں سے ایک کہا گیا ہے، ان کا مزار پاک پتن، پاکستان میں واقع ہے۔

بارہویں صدی کے مبلغ اور صوفی بزرگ تھے، ان کو قرون وسطی کے سب سے ممتاز اور قابل احترام صوفیہ میں سے ایک کہا گیا ہے، ان کا مزار پاک پتن، پاکستان میں واقع ہے۔

بابا فرید کے صوفی اقوال

118
Favorite

باعتبار

دنیا کی محبت ایک چھپی ہوئی بلا ہے جو خامشی سے دل کو ویران کر کے بندے کو رب سے بیگانہ کر دیتی ہے۔

ہر مقام پر موت کو یاد رکھ، کہ یہی غفلت کا علاج اور بیداری کا راز ہے۔

سکون چاہتا ہے؟ تو حسد چھوڑ دے، کہ حسد دل کا زہر ہے اور زہر میں آرام نہیں ہوتا۔

اپنے نفس سے نکل جانا، رب تک پہنچنے کا راستہ ہے، جو خود سے بچ گیا وہ خدا سے جا ملا۔

باطن سنوار، ظاہر خود نکھر جائے گا کہ خدا دل کو دیکھتا ہے، نہ کہ لباس کو۔

دوسروں کا بھلائی کرنا دراصل اپنی روح کو سکون دینا ہے، کیوں کہ جو تم دوسروں کے لیے کرتے ہو، وہ تمہارے اندر کی صفائی ہے۔

ہنسی مزاق اور غصہ کو کمزوری کی علامت سمجھو، کیوں کہ اصل قوت سکون اور ضبط میں ہے۔

نادان کو زندہ مت سمجھ، کہ جس دل میں معرفت کی روشنی نہ ہو، وہ جسم تو ہے مگر روح سے خالی ہے۔

دشمن کی تلخی پر ضبط کر، کہ غصہ تیرا سکون چھین کر تجھے کمزور کر دیتا ہے اور صبر تیری ڈھال ہے جو تجھے شکست سے بچاتی ہے۔

نفس کی خواہشات کو تسکین نہ دو، کیوں کہ یہ کبھی بھی سیراب نہیں ہوتا اور ہر نئی خواہش کے ساتھ اس کی طلب بڑھتی رہتی ہے۔

جھگڑے میں وہ حکمت نہیں جو صلح کی راہ چھوڑ دے کہ نرمی میں ہی انسانیت کی بلندیاں ہیں۔

اعلیٰ مقام کے لیے خودی کو پست نہ کرو۔

اپنے دل کو شیطان کا کھلونا مت بناؤ۔

جب خدا کی طرف سے کوئی آزمائش آئے، تو اسے قبول کرو، کیوں کہ وہ تمہیں اس کی قربت تک پہنچانے کا راستہ ہے۔

اگر عظمت کی آرزو ہے، تو وہ ان کے ساتھ رہ کر حاصل کر جو دنیا کی نظروں میں پست ہیں، کیوں کہ خدا کی نظر میں وہی بلند ہیں۔

وہ شخص بابرکت ہے جسے اپنی لغزشوں کا اتنا ادراک ہو کہ وہ دوسروں کی کمزوریوں کو ظاہر نہ کرے، کیوں کہ یہ انسانیت کی اصل ہے۔

مصیبت کو تحفہ سمجھ کر قبول کر۔

ذلت سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی کے سامنے دستِ سوال نہ پھیلاؤ۔

صحت کو خدا کا انعام جانو، کہ جب تک جسم سالم ہو، روح کی پرواز ممکن ہے۔

جس کام میں دل کی ناپسندیدگی ہو، اسے فوراً ترک کر دو، کیوں کہ دل کی صاف گوئی میں ہی سچائی ہے۔

تم جیسے ہو ویسا ہی ظاہر کرو، ورنہ تمہاری اصلیت لوگ ظاہر کر دیں گے۔

درویش کو مر جانا بہتر ہے مگر لذت نفس کے لیے قرض نہ لے، کیوں کہ قرض اور توکل میں مشرق و مغرب کا فرق ہے۔

اگر زندگی ہے تو علم میں ہے، اگر راحت ہے تو معرفت میں ہے، اگر شوق ہے تو محبت میں ہے اور اگر ذوق ہے تو ذکر میں ہے۔

وہ کام کرو جو تمہیں دنیا کی نہیں بلکہ آخرت کی زندگی عطا کرے۔

دشمن سے مشورہ کر کے فتح پاؤ اور دوست کو اپنی مروت سے دل میں جگہ دو۔

زندہ دل وہی ہے جس میں محبت و اشتیاق ہو۔

ہر دن نئی روحانی کامیابی کی آرزو رکھو۔

انسان کو کام کرنا چاہیے اور لوگوں کی باتوں میں نہ کھو جانا چاہیے۔

صوفیانہ سرود دلوں کو بیدار کرتا ہے اور دلوں میں عشق کی شعلہ کو پھونکتا ہے۔

اپنی کمزوریوں پر نظر رکھو، کیوں کہ جو خود کو پہچانتا ہے، وہ خدا کو زیادہ قریب پاتا ہے۔

عجب کا جواب عجب سے دو، تاکہ تکبر کی حقیقت سامنے آ سکے۔

نیک آدمی کے ساتھ فیاضی اختیار کرو، کہ اس کی دل آویزی میں برکت ہے۔

نیکی کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈو۔

دشمن چاہے جتنا بھی مخلص ہو، خود کو اس سے محفوظ نہ سمجھو۔

وہ چیز فروخت نہ کرو جو خریدی نہ جا سکتی ہے۔

وہی دل حکمت و دانش کا مخزن بن سکتا ہے جو دنیا کی محبت سے خالی ہو۔

جسے لوگ مصیبت کہتے ہیں اسے محبوب کی طرف سے ایک عطیہ سمجھو محبت کا تقاضہ یہی ہے۔

خودی کی تکمیل اس عبادت سے ہوتی ہے جس میں ظاہر و باطن دونوں سربسجود ہوں۔

مستحقین کو کبھی ہرگز فراموش نہ کرو۔

طمانیت قلب چاہتے ہو تو حسد سے دور رہو۔

وقت کا کوئی بدل نہیں ہوتا۔

انسان کی تکمیل تین چیزوں سے ہوتی ہے خوف، امید اور محبت، خوف خدا گناہ سے بچاتا ہے، امید اطاعت پر آمادہ کرتی ہے اور محبت میں محبوب کی رضا کو دیکھنا پڑتا ہے۔

اپنے ظاہر سے زیادہ باطن سے واقفیت رکھو۔

رسوم و علوم کچھ نہیں، اخلاق اصل ہے، اسی سے نجات ملتی ہے۔

درویش وہ ہے جو زبان آنکھ اور کانوں کو بند رکھے یعنی بری بات نہ سنے، نہ کہے اور نہ دیکھے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے