Font by Mehr Nastaliq Web
Barkatullah Pemi's Photo'

برکت اللہ پیمی

1660 - 1729 | ایٹہ, بھارت

برصغیر کے ممتاز صوفی، عالم اور شاعر تھے، آپ مارہرہ میں خانقاہ قائم کی اور فارسی و ہندوی میں عشقی اور پیمی تخلص سے شاعری کی، آپ کی معروف تصانیف پیم پرکاش اور دیوانِ عشقی ہیں۔

برصغیر کے ممتاز صوفی، عالم اور شاعر تھے، آپ مارہرہ میں خانقاہ قائم کی اور فارسی و ہندوی میں عشقی اور پیمی تخلص سے شاعری کی، آپ کی معروف تصانیف پیم پرکاش اور دیوانِ عشقی ہیں۔

برکت اللہ پیمی کا تعارف

تخلص : 'عشقی'

اصلی نام : برکت اللہ

پیدائش :ہردوئی, اتر پردیش

وفات : اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : شاہ میم (مرشد), حمزہ عینی مارہروی (دادا)

شاہ برکت اللہ پیمی برصغیر کے ممتاز صوفی بزرگ، عالمِ دین، شاعر اور ادیب تھے، جنہوں نے علم، تصوف اور ادب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں، آپ کا اصل نام برکت اللہ اور لقب صاحبُ البرکات تھا، آپ کی ولادت 1660ء میں بلگرام، ہردوئی میں ایک علمی و روحانی سادات خاندان میں ہوئی، جہاں ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد سید اویس اور دیگر مشائخ سے حاصل کی، کم عمری ہی میں آپ کو سجادہ نشینی اور سلسلۂ تصوف کی خلافت عطا ہوئی، جبکہ چشتیہ، سہروردیہ اور قادریہ سلاسل سے بھی آپ کو روحانی نسبت حاصل تھی، بعد ازاں آپ نے مارہرہ کو اپنا مسکن بنایا اور وہاں ایک نئی خانقاہ اور روحانی مرکز قائم کیا جو بعد میں پیم نگر (برکات نگری) کے نام سے معروف ہوا، آپ اپنے عہد کے جید عالم تھے اور تفسیر، حدیث، فقہ، منطق، فلسفہ، تاریخ اور دیگر علوم پر گہری دسترس رکھتے تھے، فارسی اور ہندوی دونوں زبانوں میں آپ نے بلند پایہ شاعری کی، فارسی میں عشقی اور ہندوی میں پیمی تخلص اختیار کرتے تھے، "پیم پرکاش"، "دیوانِ عشقی"، "ریاض العاشقین" اور دیگر متعدد علمی و ادبی تصانیف آپ کی علمی عظمت کی گواہ ہیں، 1729ء میں آپ کا وصال مارہرہ میں ہوا جہاں آپ کا مزار آج بھی اہلِ عقیدت اور طالبانِ معرفت کے لیے مرکزِ فیض ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے