Sufinama
Barkatullah Pemi's Photo'

برکت اللہ پیمی

1660 - 1729 | اتر پردیش, بھارت

باعتبار

مَن یّہدِی اللہ کوں فَلا مُضِلّ لَہ کوے

نہچیں کے من جانیو اور نہ دوجا کوے

جنہیں اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے انہیں کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ اور ہدایت دینا صرف خدا کا کام ہے۔

ست جو جائے تو رہے کیا نیتی گئے سب جائے

لجیا بنا نِلِّج ہے بن بدیا نہ اگھاے

انسان میں سچ، عدل، حیا اور علم چاروں کا ہونا ضروری ہے۔ سچ کے نہ رہنے سے کچھ نہیں رہتا۔ عدل کے ختم ہو جانے سے سب کچھ غارت ہو جاتا ہے۔ شرم و حیا کے خاتمے سے آدمی بے شرم ہو جاتا ہے اور علم حاصل نہ کرنے سے انسان جانور بن جاتا ہے۔

تم جانی کچھو پیمؔ مگ باتن باتن جاے

پنتھ میت کو کٹھن ہے کھیلو پھاگ بناے

عشق ہنسی کھیل نہیں ہے اس میں بڑی زحمتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ راہ عشق پر چلنا اور منزل تک پہنچنا بہت مشکل کام ہے۔

تن نرمل کر بوجھئے من کی ادھیکے سیکھ

وَہُوَ مَعَکُم کے بھید سوں پھر پھر آپے دیکھ

شاہ صاحب قلب کی صفائی کے لیے بدن کی پاکیزگی اور طہارت کو بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ قرآن پا ک کے اس مقولے پر ایمان رکھنا ضروری ہے کہ تم جہاں بھی ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔

دَدھی مَن دیت ترنگ ِنت رنگ رنگ بستار

کوؤ ترنگ موتی سَہِت کاہو سنگ سیوار

دل ایک سمندر کی طرح ہے جس میں طرح طرح کی خواہشات کی لہریں اٹھتی ہیں کسی لہر کے ساتھ موتی آتے ہیں۔ اور کوئی لہر اپنے ساتھ کائی لاتی ہے۔ کیوں کہ تمام خواہشات ایک جیسی نہیں ہوتیں

یُومِنُونَ بِالَغیب کوں آنکھ موند من پیل

سیکھو گرو سوں یہ جگت آنکھ مچونی کھیل

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے پر یقین رکھتے ہیں، انہیں کی پیروی کرنا چاہیے۔ (روحانی معاملات میں مراقبہ اہمیت پر زور دیا ہے اور یہ راستہ مرشد کامل ہی بتا سکتا ہے)

الکھ لکھے جب آپ کوں لکھے نہ راکھے موہ

لکھیں پڑھیں کچھو ہوت نہیں کہے تو لکھ دیوں توہ

نور خداوندی کا جلوہ اسی وقت ممکن ہے جب بندہ اپنی ’انا‘ ترک کردے اور حرص سے اپنا دامن چھڑا لے۔ صرف کتابیں پڑھنے سے خدا نہیں ملتا۔ ظاہر کے ساتھ علم باطن بھی ضروری ہے

بے حد کی حد میم سوں بھئی پیمؔ مد ہوے

بلا میم احمدؐ کہے او کاکی حد ہوے

احد اور احمد میں میم کا فرق ہے۔ اور اسی میم میں سارا عالم غرق ہو گیا۔

گت تہاری ادھک ہے مو مت سکے نہ گائے

جیو کتان سم چند کے ٹوک ٹوک ہو جائے

اللہ تعالی کی حمد بیان کرنا بندے کے لیے ناممکن ہے جس طرح کتان چاند کی روشنی سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامھے بندے کی زبان بند ہو جاتی ہے۔

ابی بکر اور عمر پن عثمان علی بکھان

ست نیتی اور لاج اتی بِدّیا بوجھ سجان

حضرات چار یار کی امتیازی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی بالترتیب سچ، عدل، حیا اور علم کے اعلیٰ ترین نمونے ہیں۔ لہٰذا ان چاروں کی عزت کرنا ضروری ہے۔

لکھیں سبئی لیکھیں نہیں موہن پران سہاے

الکھ لکھے کؤ لاکھ موں لکھا لکھا تو کائے

خدا کی عظمت کا مکمل بیان ناممکن ہے۔ لاکھوں لوگوں میں سے ایک آدھ شخص ہی معرفت خداوندی حاصل کر پاتا ہے۔

من بھٹکو چہوں اور تیں آیو سرن تہار

کرونا کر کے ناؤں کی کریے لاج مرار

میرا دل چاروں طرف بھٹکنے کے بعد تیرے دامان رحمت میں پناہ لینا چااہتا ہے ۔ تو رحماں و رحیم ہے اپنی ان صفات کے طفیل میری لاج رکھ لے۔ گو شاہ صاحب نے اس شعر کے ذریعہ انسان کو دعا مانگنے کا ایک خوبصورت طریقہ عطا کیا ہے کہ بندہ اپنی طلب کے مطابق صفت الٰہی کا واسطہ دے دے انشاء اللہ دعا قبول ہوجائے گی۔ مثلاً رحمت چاہیے تو صفت رحمان ،۔ رزق چاہیے تو صفت رزاق اور علم و حکمت چاہیے تو صفت علام الغیوم کے واسطے دعا مانگے۔

بیج برچھ نہیں دوے ہیں روئی چیر نہیں دوے

ددھ ترنگ نہیں دوے ہیں بوجھو گیانی لوے

اس شعر کا تعلق بھی وحدت الوجود سے ہے شاہ صاحب کہتے ہیں کہ بیچ اور درخت، روئی اور کپڑا، دودھ اور دہی بہ ظاہر مختلف چیزیں ہیں۔ مگر حقیقتاً ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نور تو مومن کے دل میں ہوتا ہے۔ مگر یہ بات عالم و کامل ہی جانتے ہیں۔

تو میں میں تو ایک ہیں اور نہ دوجا کوے

میں تو کہنا جب چھٹے وہی وہی سب ہوے

جب تک ’من و تو‘ کا فرق رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ تک رسائی مشکل ہے۔ جب اس فرق کو مٹا دیا جائے گا تبھی اللہ کا دیدار نصیب ہوگا۔

اورنگ جیب کے راج میں بھئی گرنتھ کی آس

پیمیؔ نانو بچار کے دھرا پیم پرکاش

میں نے اورنگ زیب کے دور حکومت میں اس کتاب کی تصنیف کا ارادہ کیا اور کتاب کا نام ’پیم پرکاش‘ (عشق و محبت کی روشنی) رکھا

مورکھ لوگ نہ بوجھی ہیں دھرم کرم کی چھین

ایک تو چاہیں ادھک کے اک تو دیکھیں ہین

خلفائے راشدین میں سے حضرت علی کو باقی تین خلفا سے افضل بتانا دانائی نہیں ہے۔

من جوگی تن کہ مڑھی سیت گودری دھیان

نیناں جل برہ دھوئیں بِچھّا درسن جان

دل ایک جوگی کی طرح ہے جس کی رہائش گاہ جسم ہے۔ جوگی نے عبادت کی گدڑی اوڑھ لی ہے اور ہجر کے آنسوؤں سے غسل کر رہا ہے۔ عبادت کرنے والا جوگی بھیک میں جلوۂ محبوب مانگ رہا ہے۔

مَن یَّضللہ جو ہر بھیو پاپ کی موٹ

فلا ہادی لہ ہوے نہیں کرو جتن کن کوٹ

جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کی لاکھ کوشش کے باوجود کوئی ہدایت نہیں کر سکتا۔ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا صرف اللہ کی مرضی پر منحصر ہے۔

پیمیؔ تن کے نگر میں جو من پہرا دیے

سووے سدا انند سوں چور نہ مایا ہوے

نفس امارہ پر قابو رکھنا ضروری ہے کیوں کہ یہ انسان کو بربادی کے راستے پر لے جانے کی کوشش کرتا ہے وہ کہتے ہیں کہ جسم کو دل کا حکم ماننا چاہیے۔ اگر انسان ضبط نفس سے کام لے تو وہ ہمیشہ مطمئن رہے گا اور شیطان اسے گناہ میں مبتلا نہیں کر سکے گا۔

پیمیؔ ہندو تُرک موں ہر رنگ رہو سماے

دیول اور مسیت موں دیپ ایک ہِیں بھاے

شاہ صاحب ہندو مسلم ایکتا کی تعلیم دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان دونوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور اس قدرت کے جلوے دونوں میں ملتے ہیں۔ مندر اور مسجد میں جلائے جانے والے چراغ ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔

نئی ریتی یا پیت کی پہلیں سب سکھ دیہہ

پاچھیں دکھ کی جِیل میں ڈار کرے تن کھیہ

اس محبت کا دستور ہی نرالا ہے پہلے تو محبت کرنے والے کو خوشی حاصل ہوتی ہے لیکن رفتہ رفتہ محبوب کا عشق دل کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ محبوب کے جانے کے بعد اس کی یاد میں دل تڑپتا ہے اور عاشق کو مصیبت برداشت کرنی پڑتی ہے۔

پانچو پانچو پانچیو نبی چار ہو نانہہ

باچو گے دکھ پاپ تیں نانچو بیکنٹھ مانہہ

اے لوگوں تمھارے لیے اہل بیت (اہل بیت پانچ ہیں) کی محبت لازمی ہے حضرت محمدؐ ان چاروں کے سردار ہیں۔ اگر اہل بیت سے محبت رکھوگے تو تمہاری تکالیف اور گناہ دور ہو جائیں گے اور جنت میں ٹھکانا ہوگا۔

مکھ سکھ کو سسِ نرملو ہوت پاپ تم دور

دھیان دھریں اتی پائیے پیمیؔ من کی مور

ہرجن ہری کے پنتھ جیہ ایسیں دیت ملوے

نِدھرک لوبھئے چھاڑ کے جم سدھ ہی نا ہوے

توہیں توہیں تب کہے ہونہیں ہونہیں جاے

جل گنگا میں مل گیو سر کی گئی بلاے

طَالَ کلَّ دوؤ کہے بیورا بوجھو کوے

اک بقا ایک فنا ہے پیمؔ پرانے لوے

ہم باسی وا دیس کے جہاں نہ پاپ نہ پن

بِدِسا دسا نہ ہوت ہے پیمیؔ سنے سن

پار کہیں تے وار ہیں وار کہیں نہیں پار

یا مگ آر نہ پار ہے تن من ڈارو وار