ڈاکٹر ظہورالحسن شارب کا تعارف
تخلص : 'شارب'
اصلی نام : ظہورالحسن
وفات : 08 Apr 1996 | راجستھان, بھارت
رشتہ داروں : خادم حسن اجمیری (مرید)
ڈاکٹر ظہور الحسن شاربؔ ہندوستان کے ممتاز ادیب، دانش ور، قانون داں، سماجی مصلح اور روحانی مزاج رکھنے والے اہلِ قلم تھے، آپ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جو حضرت زبیر کی نسل سے منسوب تھا اور حضرت سماع الدین سہروردی کی روحانی نسبت رکھتا تھا، آپ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، جہاں قرآن پاک، اردو اور انگریزی کی تعلیم حاصل کی، کم عمری ہی سے ادب، تصوف اور مطالعے کا شوق پیدا ہوا، اجمیر میں اپنے چچا حضرت خادم حسن اجمیری کی صحبت نے آپ کی فکری اور روحانی تربیت میں اہم کردار ادا کیا، نوجوانی میں آپ نے اپنی پہلی انگریزی کتاب Biography and Sayings of Holy Saints تصنیف کی، اس کے علاوہ خم خانۂ تصوف اور دہلی اور احمدآباد میں آباد صوفیائے کرام کے حالات پر تذکرہ لکھا جو کافی مقبول ہوا، فارسی زبان و ادب اور صوفیانہ افکار سے آپ کو گہری دلچسپی تھی، اعلیٰ تعلیم کے دوران آپ نے دیہی ہندوستان کے مسائل پر تحقیق کی اور خدمتِ خلق کے جذبے سے “رورل ویلفیئر سوسائٹی آف انڈیا” سمیت متعدد فلاحی ادارے قائم کیے، قانون کی تعلیم کے بعد 1938ء میں الٰہ آباد ہائی کورٹ میں وکیل مقرر ہوئے، تاہم آپ کی اصل دلچسپی ادب، تصوف اور سماجی خدمت میں رہی، 1942ء میں اپنے مرشد کے ہاتھ پر بیعت کے بعد آپ کی روحانی زندگی میں نمایاں تبدیلی آئی، آپ نے پوری زندگی علم، ادب، تصوف اور انسان دوستی کے فروغ میں گزاری، آپ کی شخصیت علم، روحانیت اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج تھی اور آپ اپنے چچا خادم حسن اجمیری کو اپنا سب سے بڑا روحانی و فکری رہنما قرار دیتے تھے، آپ نے 1996ء میں وفات پائی اور اپنے پیچھے علمی، ادبی، روحانی اور سماجی خدمات کا گراں قدر ورثہ چھوڑا۔