ڈاکٹر ظہورالحسن شارب کے صوفیانہ مضامین
خواجہ نصیرالدین محمود چراغ دہلی
حضرت نصیرالدین محمود چراغ دہلی خاندانِ چشت کے روشن چراغ ہیں، آپ حضرت نظام الدین اؤلیا کے جانشین ہیں، آپ مردِ میدانِ دین اور فردِ میدانِ یقین ہیں۔ خاندانی حالات : آپ کے جدامجد حضرت شیخ عبداللطیف نیروی خراسان کے رہنے ولاے تھے، وہاں سے ہجرت کرکے لاہور
حضرت شیخ محمد ترک نارنولی
حضرت شیخ محمد ترک نارنولی نے اپنے وطن ترکستان سے ہندوستان آکر نارنول میں سکونت اختیار کی۔ القاب : آپ کو ”پیرِ ترک“ اور ”ترک سلطان“ کے القاب سے پکارا جاتا ہے۔ بیعت و خلافت : یہ کہا جاتا ہے کہ آپ خواجہ عثمان ہارونی کے مرید ہیں اور خواجہ معین الدین حسن
حضرت قاضی حمیدالدین ناگوری
حضرت قاضی حمیدالدین ناگوری جامع کمالاتِ معنوی و صوری ہیں، آپ قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے استاد ہیں، آپ ایک بہت بڑے عالم تھے اور ساتھ ہی ساتھ ایک خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ خاندانی حالات : آپ بخارا کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ والد
حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی
حضرت شاہ کلیم اللہ شاہجان آبادی مقبول بارگاہِ ایزدی ہیں، آپ زہدۂ اربابِ ریاضات و مجاہداتِ لامتناہی اور عارفِ اسرارِ معارفِ الٰہی ہیں۔ خاندانی حالات : آپ کے آباؤ اجداد خجند (ترکستان) کے رہنے والے تھے۔ والد ماجد : آپ کے والد کا نام شیخ نوراللہ ہے، آپ
بابا فریدالدین مسعود گنج شکر
حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر برہان الشریعت، سلطان الطریقت اور گنج حقیقت ہیں۔ خاندانی حالات : آپ کا نسب نامہ پدری امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطاب تک پہنچتا ہے، آپ کابل کے بادشاہ فرخ شاہ کے خاندان سے تھے، کابل کی لڑائی میں آپ کے مورثِ اعلیٰ نے شہادت
فخرجہاں خواجہ محمد فخرالدین چشتی
محب النبی حضرت مولانا فخرالدین فخرِ جہاں فخر الاولین والآخرین ہیں، آپ قطبِ زمانہ، فردِ یگانہ، شہسوارِ عرصۂ ولایت، صدرِنشینِ محفلِ کرامت ہیں۔ خاندانی حالات : بواسطہ شیخ شہاب الدین سہروردی آپ کی نسبتِ نسبی امیرالمؤمنین حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی مجمعِ فیوضِ سبحانی اور منبعِ علومِ روحانی ہیں، آپ دُرِ دریائے معرفت اور گوہرِ کانِ حقیقت ہیں۔ خاندان : آپ کے خاندان اور والد بزرگوار حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا ذکر پچھلے باب میں آچکا ہے، یہاں یہ کہنا کافی ہوگا کہ آپ
حضرت سید ابو صالح شرف الدین حسین
حضرت سید ابو صالح شرف الدین حسین برہان العاشقین ہیں۔ خاندانی حالات : آپ امام الاؤلیا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد میں سے ہیں، حضرت سید احمد جہاں شاہ کے پوتے ہیں۔ والدِ ماجد : آپ کے پذرِ بزرگوار کا نامِ نامی اسمِ گرامی حضرت سید نصیرالدین محمود ہے۔ والدہ
حضرت چاند پیر
حضرت چاند پیر صاحبِ صدق و صفا تھے، حق و صداقت کے علمبردار تھے، آپ نے کفروشرک کو دور کرنے میں انتھک کوشش کی اور آخرکار جامِ شہادت نوش فرمایا، سورت میں رانی تالاب کے پاس ایک مسجد ہے جو آپ کے نام سے موسوم ہے، اس کے پہلو میں آپ کی آخری آرام گاہ ہے۔
حضرت شاہ سیف اللہ رفاعی
حضرت شاہ سیف اللہ رفاعی کلماتِ حقائق, خوارق عادات میں مخصوص تھے۔ خاندانی حالات : آپ حضرت شیخ احمد بن ابوالحسن رفاعی کے خاندان سے تھے اور حضرت شیخ احمد رفاعی امام موسیٰ کاظم کی اولاد سے تھے، وہ عرب کے ایک قبیلہ رفاعیہ سے منسوب کیے جاتے ہیں اور اس نسبت
حضرت بی بی سلطان
آپ حضرت برہان الدین قطبِ عالم کی زوجہ ہیں اور حضرت شاہ عالم کی والدہ ماجدہ ہیں۔ آپ عبادت و ریاضت میں یکتا تھیں، قرآنِ مجید کی تلاوت کی سخت پابند تھیں، آپ کا مزار پٹن میں حضرت سید حسین خنگ سوار کے مزار کے قریب ہے۔
حضرت مولانا شمس الدین محمد یحییٰ
حضرت مولانا شمس الدین محمد بن یحییٰ شمسِ ملت و دین ہیں، آپ زاہدِ ممکن، عباد متدیّن، وصّافِ حقائق اور کشافِ دقائق ہیں۔ والدِ بزرگوار : آپ کے والدبزرگوا کا نامِ نامی محمد یحییٰ ہے۔ نام : آپ کا نام شمس الدین محمد ہے۔ تعلیم و تربیت : آپ نے مولانا ظہیرالدین
حضرت شیخ محمود راجن چشتی
حضرت شیخ محمود راجن چشتی زبدۃ المشاغلین، سرحلقۂ عاشقین ہیں۔ خاندانی حالات : آپ حضرت شیخ سراج الدین کے پوتے ہیں۔ والد ماجد : آپ کے والدِ ماجد کا نامِ نامی اسمِ گرامی شیخ علم الدین ہے۔ ولادت و نام و کنیت : آپ پٹن میں پیدا ہوئے، نام محمود اور کنیت راجن
حضرت شاہ وجیہہ الدین
حضرت شاہ وجیہہ الدین شیخ العصر، امامِ شریعت اور مقتدائے ملت تھے۔ خاندانی حالات : آپ علومِ خاندان کے ایک روشن چراغ ہیں، آپ کے خاندان کے متعلق یہ مشہور ہے کہ ”نسبِ ایشاں علویست“ ترجمہ : ان کا نسب علوی ہے۔ آپ کے متعلق اس پر اتفاق ہے کہ ”از کبارِ مشائخ
حضرت سید احمد جہاں شاہ
حضرت سید احمد جہاں شاہ صاحبِ صفا اور ولیِ خدا ہیں۔ خاندانی حالات : آپ امام الاؤلیا حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کی اولاد میں سے ہیں، کئی واسطوں سے آپ کا نسب نامہ پدری مولائے کائنات تک پہنچتا ہے، آپ کے دادا سید نورالدین حسین غوث الوریٰ ایک بلند پایہ بزرگ
حضرت شیخ صدرالدین
حضرت شیخ صدرالدین صاحبِ ولایت ہیں۔ خاندان : آپ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق کی اولاد سے ہیں۔ والدِ بزرگوار : آپ کے والد ماجد کا نامِ نامی اسمِ گرامی شیخ عبداللطیف ہے۔ مزارِ مبارک : اپنے والد ماجد کے قریب پٹن میں آپ محوِ خواب ہیں۔ سیرت : اپنے والد کی
حضرت شیخ جلال الدین تبریزی
حضرت شیخ جلال الدین تبریزی سلطان الاصفیا ہیں۔ ارادت : آپ حضرت شیخ ابوسعید تبریزی کے مرید تھے، حضرت نظام الدین اؤلیا ان (ابوسعید تبریزی)کی بابت فرماتے ہیں کہ ’’آپ بزرگ شیخ اور اعلیٰ درجے کے تارک الدنیا تھے، چنانچہ اکثر آپ پر قرض ہوجاتا لیکن کسی سے
حضرت صوفی سلیمان
حضرت صوفی سلیمان صوفی صافی ہیں۔ خاندانی حالات : آپ کے خاندان والے کاشت کاری کرتے تھے۔ والدین : آپ کے والد کا نام حافظ احمد تھا، ان کو لوگ حافظ احمد دیوان بھی کہتے تھے، آپ کی والدہ کی رگوں میں عرب کے خاندان کا خون تھا۔ ولادت : آپ لاج پور میں 1245 ہجری
خواجہ محی الدین کاشانی
حضرت خواجہ محی الدین کاشانی عارفِ ربانی، نظام الحقیقت اور نصیرالطریقت ہیں۔ خاندانی حالات : آپ کے بزرگان نے ایک عرصے تک مالکِ طبرستان میں حکومت کی، ان کا دارالخلافت کاشان تھا، آپ کے داد حضرت خواجہ قطب الدین کاشانی کو چنگیز خاں کی قتل و غارت گری نے ترکِ
حضرت مولانا میاں
حضرت مولانا میاں کھنبائت میں مشہور بزرگ ہوئے ہیں، رشد و ہدایت، تعلیم و تلقین اور تبلیغ میں ساری زندگی گزار دی، آپ لوگوں میں بہت ہر دل عزیز تھے، اس علاقے میں نشر و اشاعت کا سلسلہ بھی قائم کیا تھا۔
حضرت شیخ رکن الدین کانِ شکر
حضرت شیخ رکن الدین کانِ شکر قدوۃ المکاشفین، شمس الواصلین ہیں۔ خاندانی حالات : امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب سے آپ کا نسب نامہ ملتا ہے، آپ بابا فریدالدین مسعود گنج شکر کی اولاد سے ہیں، آپ کے دادا کا نام علاؤالدین یوسف گنج رواں ہے جو حضرت بدرالدین سلیمان
حضرت خواجہ دانا
حضرت خواجہ دانا دانائے راز، یگانۂ روزگار، بادشاہِ عالمِ راز اور عارفِ مقامِ جبروتی ہیں۔ خاندانی حالات : آپ کے آباواجداد موضع جنوق کے جو خوارزم سے کچھ ہی دور ہے رہنے والے تھے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ جونک نام کے گاؤں میں رہتے تھے، آپ کے دادا کا نام
گجرات میں تصوف کی روشنی
گجرت میں تصوف اجنبی کی طرح آیا، حاکم کی طرح رہا اور تسخیرِ قلوب کرکے لا زوال سلطنت چھوڑ گیا۔ گجرات میں جس شہر کو صوفیائے کرام نے سب سے پہلے اپنی رشدوہدایت کا مرکز اور اپنی روحانی سلطنت کا دارالخلافت بنایا وہ نہروالہ (انہلواڑہ) پٹن ہے، یہ شہر گجرات کے
حضرت قاضی احمد جود
حضرت قاضی احمد جود صاحبِ جود و سخا ہیں۔ خاندانی حالات : آپ سلطان حاجی ہُد کے خاندان سے ہیں۔ والد ماجد : آپ کے والدِ ماجد کا نامِ نامی اسمِ گرامی سید خلیل اللہ ہے۔ نامِ نامی : آپ کا نام احمد ہے۔ لقب : آپ کا لقب قطب الدین ہے۔ خطاب : آپ ”جود“ کے خطاب سے
حضرت سید حامد
حضرت سید حامد پاک باطن بزرگ تھے۔ خاندانی حالات : حضرت برہان الدین قطبِ عالم کے خاندان سے ہیں۔ نامِ نامی : آپ کا نام سید حامد ہے۔ خدمت : آپ کے سپرد حضرت شیخ محمود دریا نوش نے یہ خدمت کی تھی کہ آپ خانقاہ کی دیکھ بھال کریں، خرچ و اخراجات پر نظر رکھیں
حضرت شیخ صدرالدین ملتانی
حضرت شیخ صدرالدین ملتانی ولیٔ خدا اور صاحبِ جود و سخا ہیں۔ خاندانی حالات : آپ حضرت مخدوم حسام الدین ملتانی کے بھانجے ہیں۔ والد : آپ کے والد عمر اپنے وقت کے جلیل القدر بزرگ تھے۔ والدہ : آپ کی والدہ بی بی آمنہ عبادت، سخاوت اور راست گوئی کے لیے مشہور
حضرت قاضی شاہ مودود
حضرت قاضی شاہ مودود صاحبِ ولایت اور سلطانِ طریقت ہیں۔ خاندانی حالات : آپ کے پردادا نجم الدین اور دادا عین الدین صاحبِ کمال بزرگ تھے۔ والدِ ماجد : آپ کے پدرِ بزرگوار کا نامِ نامی اسمِ گرامی قاضی علم الدین ہے۔ سجادگی : آپ نے اپنے والد کے سجادہ پر
حضرت سید احمد
حضرت سید احمد باکمال بزرگ تھے۔ خاندانی حالات : آپ حضرتِ مخدوم جہانیانِ جہاں گشت کے خاندان سے ہیں۔ والد : آپ حضرتِ برہان الدین قطبِ عالم کے صاحبزادے ہیں۔ ولادت و نام : آپ پٹن میں 819 ہجری میں پیدا ہوئے، آپ کا نام سید احمد ہے۔ تعلیم و تربیت : اپنے والدِ
حضرت سید حامد
حضرت سید حامد جامع الکمالات تھے۔ خاندانی حالات : آپ حضرت سید حسین خنگ سوار کے بھتیجے ہیں۔ والد ماجد : آپ کے والدِ ماجد کا نام محمود ہے۔ نامِ نامی : آپ کا نامِ نامی اسمِ گرامی حامد ہے۔ تعلیم و تربیت : آپ نے علومِ ظاہری کئی بزرگوں سے اور زیادہ تر اپنے
حضرت سلطان حاجی ہُد
حضرت سلطان حاجی ہد خو کردۂ جمالِ محمدی اور پروردۂ کمالِ احمدی ہیں۔ خاندانی حالات : آپ کا نسب نامۂ پدری حضرت امام باقر سے ملتا ہے اور مولائے کائنات حضرت علی تک پہنچتا ہے۔ والدِ ماجد : آپ کے والدِ ماجد کا نام سید اوانا ہے، ان کا لقب سبحانی عبداللہ
حضرت شیخ رکن الدین مجذوب
حضرتِ شیخ رکن الدین مجذوب صاحبِ کشف و کرامات بزرگ تھے، جذب کی حالت میں جیسا کہ مجذوبوں کا قاعدہ ہے وہ دیکھتے اور سنتے تھے کہ جو اور نہ دیکھ سکتے تھے اور نہ سن سکتے تھے، جو کچھ کہتے ویسا ہی ہوتا، پٹن میں آپ کا بہت شہرہ تھا۔ مزار : حضرتِ مخدوم حسام الدین
حضرت سید محمد اصغر
حضرت سید محمد اصغر کمالِ حقیقت ہے۔ خاندانی حالات : حضرت مخدوم جہانیانِ جہاں گشت کے خاندان سے تھے۔ والد : آپ حضرتِ برہان الدین قطبِ عالم کے صاحبزادے تھے۔ نام : آپ کا نام سید محمد اصغر ہے۔ کنیت : آپ کی کنیت شیخ محمد ہے۔ تعلیم و تربیت : تعلیم و تربیت والدِ
حضرت شیخ سلیمان
حضرت شیخ سلیمان ناصرِ شریعت اور امامِ طریقت ہیں۔ خاندانی حالات : آپ بابا فریدالدین گنج شکر کی اولاد سے ہیں، آپ ان کے سجادہ نشیں تھے۔ والد ماجد : آپ کے پدرِ بزرگوار کا نامِ نامی اسمِ گرامی شیخ علاؤالدین ہے۔ نام : آپ کا نام سلیمان ہے۔ لقب : آپ کا لقب
حضرت شیخ حسین محمد
حضرت شیخ حسن محمد عشقِ الٰہی میں سرشار اور یگانۂ روزگار تھے۔ خاندانی حالات : آپ کے دادا شیخ نصیرالدین ثانی سے بہت سے لوگوں نے فیض پایا۔ والد ماجد : آپ کے والدِ ماجد کا نامِ نامی اسمِ گرامی شیخ احمد ہے، میاں جیو کے لقب سے مشہور ہیں۔ ولادت : آپ احمدآباد
حضرت شیخ احمد نہروانی
حضرت شیخ احمد نہروانی اس مجلسِ سماع میں موجود تھے کہ جس میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے وصال فرمایا۔ بیعت و خلافت : آپ حضرت قاضی حمیدالدین ناگوری کے مرید ہیں۔ پیشہ : آپ بافندگی کا کام کرتے تھے۔ زندگی میں کایا پلٹ : آپ کے پیر و مرشد قاضی حمیدالدین
حضرت شاہ حسن
حضرت شاہ حسن غواصِ بحرِ حقیقت ہیں۔ خاندانی حالات : آپ سلطان حاجی ہد کے خاندان سے ہیں۔ والدِ ماجد : آپ کے والدِ ماجد حضرت قاضی احمد جود باکمال درویش تھے۔ نام : آپ کا نام حسن ہے۔ لقب : آپ کا لقب فقیہ ہے۔ خطاب : آپ کا خطاب غوث الوریٰ ہے۔ تعلیم و تربیت
حضرت شیخ زین الدین خیاط
حضرت شیخ زین الدین خیاط خدمتِ خلق اور یادِ الٰہی میں مشغول رہتے تھے، لوگوں کو تعلیم و تلقین اور رشد و ہدایت کے ذریعہ ظلمت و تاریکی سے باہر نکال کر ان کو روشنی میں لاتے۔ وفات : آپ کا 13 جمادی الاول کو وصال ہوا، مزار پٹن میں ہے۔
حضرت امام شاہ
حضرت امام شاہ پیشوائے اہلِ یقین تھے۔ آپ پیرانہ میں جو احمدآباد سے جنوب و مغرب کی طرف دس میل کے فاصلہ پر ہے رہتے تھے، آپ رشدوہدایت، تعلیم وتلقین اور تبلیغ میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے، کچھ اور گجرات میں آپ کی تبلیغ کے اثرات آج تک نمایاں ہیں، پندرہویں صدری
حضرت شیخ کمال الدین یعقوب
حضرت شیخ کمال الدین یعقوب صاحبِ کمالات بزرگ تھے۔ گجرات میں آمد : اپنے پیر و مرشد کے حکم سے گجرات آئے اور پٹن میں سکونت اختیار کی، آپ نے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھایا، بہت سے لوگ آپ سے فیضاب ہوئے۔ مزارِ مبارک : آپ کا مزارِ مبارک پٹن میں واقعہ ہے۔
حضرت شاہ موسیٰ سہاگ
حضرت موسیٰ سہاگ مردِ کامل، صاحبِ ولایت تھے۔ نامِ نامی : آپ کا نامِ نامی اسمِ گرامی موسیٰ ہے۔ بیعت : آپ حضرت شاہ سکندر بود کے مرید تھے اور وہ مرید شاہ جیول لال قلندر کے تھے اور وہ مرید شاہ جمال مجرد کے تھے اور وہ مرید شاہ ابراہیم گرم سیل کے تھے اور وہ
خواجہ باقی باللہ نقشبندی
حضرت خواجہ باقی باللہ شمس حقیقت، شہبازِ طریقت اور جانِ شریعت ہیں، آپ رفیع المرتب اور خیرالمناقب ہیں۔ خاندانی حالات : نانا کی طرف سے آپ کا سلسلہ حضرت خواجہ احرار کے نانا حضرت شیخ عمر یاغستانی تک پہنچتا ہے، آپ کی نانی خاندانِ سادات سے تعلق رکھتی تھیں۔ والدماجد
خواجہ محمود دہدار
حضرت خواجہ محمود دہدار جامِ حبِّ نبی پیکر عشقِ رسول میں سرشار تھے۔ وطن : آپ موضع دہدار کے رہنے والے تھے جو بخارا کے پاس ہے۔ والدِ ماجد : آپ کے والدماجد کا نام خواجہ محمد ہے اور چونکہ دہدار کے رہنے والے تھے اس لئے خواجہ محمد دہدار کہلاتے ہیں، وہ حضرت
حضرت بی بی آرام
حضرت بی بی آرام صاحبہ ترک و تجرید میں یگانۂ روزگار تھیں۔ خاندانی حالات : آپ حضرت سید خنگ سوار کی ہمشیرہ ہیں۔ دہلی سے ہجرت : حضرت حسین خنگ سوار کو جب سلطان المشائخ نے ڈھبوئی جانے کا حکم دیا تو آپ بھی ان کے ہمراہ ڈھبوئی گئیں پھر ڈھبوئی سے اپنے بھائی
حضرت شیخ سراج الدین
حضرت شیخ سراج الدین مقتدائے دین، پیشوائے اہلِ یقین، شمع شبستانِ ہدایت اور چراغِ دودمانِ ولایت ہیں۔ خاندانی حالات : آپ کا نسب نامہ حضرت امام حسن تک پہنچتا ہے۔ والد ماجد : آپ کے والد ماجد کا نامِ نامی اسمِ گرامی حضرت کمال الدین علامہ ہے وہ عبدالرحمٰن
حضرت سید محمد تقی
حضرت سید محمد تقی اہلِ حال اور اہلِ قال بزرگ ہیں۔ نام : آپ کا نامِ نامی اسمِ گرامی محمد ہے، بعض کا خیال ہے کہ نام عبداللہ ہے۔ لقب : آپ کا لقب تقی ہے۔ کنیت : آپ کی کنیت سید محمد برہمن ہے۔ پٹن میں آمد : آپ راجہ سدھ راج جیی کے زمانے میں پٹن میں تشریف لائے،
حضرت خواجہ خانو
حضرت خواجہ خانو مشہور اؤلیا میں سے ہیں۔ بیعت وخلافت : آپ حضرت خواجہ حسین ناگوری کے مرید ہیں، آپ نے حضرت شیخ اسماعیل شیخ حسین سرمست سے بھی خرقۂ خلافت لیا۔ سیرت : آپ کسی کی تعظیم کے لئے کھڑے نہیں ہوتے تھے جب آپ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا کہ
حضرت جلال الدین حسین شاہ
حضرت جلال الدین حسین شاہ شیخ الزماں ہیں، محبوبِ جہاں ہیں۔ خاندانی حالات : آپ مخدوم جہانیانِ جہاں گشت کے خاندان سے ہیں، آپ حضرت قطبِ عالم کے پوتے ہیں۔ والد : آپ کے والد ماجد شاہ محمود عرف شاہ بولا دنیا اور دنیا کے معاملات سے بے نیاز اور بے پروا رہتے
حضرت سید علی میراں داتار
حضرت سید علی میراں داتار غوّاص دریائے دین اور دُرِّ بحرِ یقین ہیں۔ خاندانی حالات : آپ سید تھے، آپ کے دادا کا نام علم الدین تھا، سنوسی ڈول میں رہتے تھے، وہاں سے سکونت ترک کرکے مانک پور جونا آئے اور وہیں رہنے لگے، گجرات کے بادشاہ سلطان احمد شاہ کے زمانے