اعجاز وارثی کا تعارف
اعجاز وارثی (1911ء–1984ء) اردو کے ممتاز شاعر، نعت گو ادیب اور صاحبِ طرز سخن تھے، آپ کی ولادت 3 فروری 1911ء موافق 3 صفر 1329ھ کو پیلی بھیت میں ہوئی، آپ کے والد احمد حسین ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر تھے اور علمی و اخلاقی اوصاف کے حامل تھے، اعجاز وارثی نے کم عمری میں شاعری کا آغاز کیا اور احسن مارہروی کی شاگردی میں تقریباً آٹھ برس تک اصلاح حاصل کی، جس سے ان کی شاعری میں فنی پختگی، فکری گہرائی اور کلاسیکی رنگ پیدا ہوا، ان کے کلام میں عشقِ رسول، روحانی احساسات، انسانی جذبات اور زندگی کے مختلف تجربات نہایت دل نشیں انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں، 1973ء میں زیارتِ حرمین شریفین کی سعادت نے ان کی روحانی فکر کو مزید جلا بخشی، جس کے اثرات ان کی نعتیہ شاعری میں نمایاں نظر آتے ہیں، ان کا شعری مجموعہ پیش دستی (1975ء) اور گلِ صحرا (1984ء) ان کی ادبی بصیرت، فکری سنجیدگی اور شعری مہارت کے اہم مظاہر ہیں، اردو شاعری میں ان کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے روایت اور روحانیت کو مؤثر انداز میں یکجا کیا۔