Font by Mehr Nastaliq Web
Fana Nizami Kanpuri's Photo'

فنا نظامی کانپوری

1922 - 1988 | کانپور, بھارت

ایک باوقار اور صاحبِ طرز شاعر تھے جنہوں نے کلاسیکی شعری روایت، دینی اقدار اور تہذیبی شائستگی کو اپنی شاعری میں زندہ رکھا۔

ایک باوقار اور صاحبِ طرز شاعر تھے جنہوں نے کلاسیکی شعری روایت، دینی اقدار اور تہذیبی شائستگی کو اپنی شاعری میں زندہ رکھا۔

فنا نظامی کانپوری کا تعارف

تخلص : 'فنا'

اصلی نام : مرزا نثارعلی بیگ

پیدائش :کانپور, اتر پردیش

وفات : 01 Jul 1988 | اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : جگر مرادآبادی (مرشد)

فنا نظامی 1922ء میں ایک مذہبی اور علمی خانوادے میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام مرزا نثار بیگ تھا، ان کا خاندانی ماحول نہایت دینی، تہذیبی اور علمی تھا، جس کے اثرات ان کی پوری زندگی اور شخصیت پر نمایاں رہے، وہ خود بھی نہایت متدین، شریف النفس اور باوقار انسان تھے، ابتدائی تعلیم مقامی مدرسے میں حاصل کی، جبکہ فارسی کی اعلیٰ کتابیں اپنے پھوپھا مولانا خان زماں سے پڑھیں، جن سے انہیں علمی و ادبی ذوق بھی ورثے میں ملا، شاعری کی طرف ان کا رجحان کم عمری ہی میں پیدا ہوگیا تھا، 1937ء میں پہلی مرتبہ بیرونی مشاعرے میں شرکت کی، جہاں ان کے کلام کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی، فنِ سخن میں عبدالشکور ان کے مربی تھے، انہوں نے حافظ سلامت اللہ، حافظ مراد علی اور کبھی کبھی خواجہ عزیزالحسن مجذوب کی صحبتوں سے بھی ادبی و فکری فیض حاصل کیا، فنا نظامی کے پسندیدہ شاعر جگر مرادآبادی تھے، جن کے رنگِ تغزل اور سوز و مستی کا اثر ان کی شاعری میں محسوس کیا جاسکتا ہے، ان کے معاصر شعرا میں نشور واحدی، شارق ایرانی، ندرت کانپوری، وفا شاہجہانپوری، گنگا دھر فرحت اور وحشی کاندھلوی جیسے اہلِ قلم شامل تھے، فنا نظامی نے اپنی شاعری میں تہذیبی شائستگی، دینی اقدار اور کلاسیکی شعری روایت کو برقرار رکھا، ان کی شخصیت میں سادگی، اخلاق اور روحانی وقار نمایاں تھا، 18 جولائی 1988ء کو ان کا انتقال ہوا اور اردو ادب ایک باوقار، بااخلاق اور صاحبِ طرز شاعر سے محروم ہوگیا۔

 

 

موضوعات

Recitation

بولیے