فنا نظامی کانپوری کے اشعار
دنیا کے ہر اک غم سے بہتر ہے غم جاناں
سو شمع بجھا کر ہم اک شمع جلا لیں گے
ہم گلشن فطرت سے جینے کی ادا لیں گے
شاخوں سے لچک لیں گے کانٹوں سے انا لیں گے
رہ جائے چند روز جو بیمار غم کے پاس
خود اپنا دل دبائے ہوئے چارہ گر پھرے
ان کو گل کا مقدر ملا
مجھ کو شبنم کی قسمت ملی
غم سے نازک ضبط غم کی بات ہے
یہ بھی دریا ہے مگر ٹھہرا ہوا
گھر ہوا گلشن ہوا صحرا ہوا
ہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوا
شاید کہ یہی آنسو کام آئیں محبت میں
ہم اپنی متاع غم برباد نہیں کرتے
دل عشق میں ہوتا ہے مائل بہ فغاں پہلے
جب آگ سلگتی ہے اٹھتا ہے دھواں پہلے
کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہے
ہم آہ تو کرتے ہیں فریاد نہیں کرتے
بن جائے گا اللہ کا گھر خود ہی کسی دن
فی الحال فناؔ کو صنم خانہ کہیں گے
شاید کہ یہی آنسو کام آئیں محبت میں
ہم اپنی متاع غم برباد نہیں کرتے
جب بھی خط لکھنے بیٹھے انہیں
صرف لے کر قلم رہ گئے
کوئی سمجھے گا کیا راز گلشن
جب تک الجھے نہ کانٹوں سے دامن
گھر ہوا گلشن ہوا صحرا ہوا
ہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوا
گل تو گل خار تک چن لئے ہیں
پھر بھی خالی ہے گلچیں کا دامن
ہم گلشن فطرت سے جینے کی ادا لیں گے
شاخوں سے لچک لیں گے کانٹوں سے انا لیں گے
رفتار یار کا اگر انداز بھول جائے
گلشن میں خاک اڑاتی نسیم سحر پھرے
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere