فتح محمد حقیرؔ کا تعارف
حافظ فتح محمد جن کا تخلص حقیر تھا، لکھنؤ کے محلہ ٹکسال چوک کے رہنے والے تھے، ان کا سلسلۂ نسب حضرت عمر فاروق سے جاملتا ہے، اسی نسبت سے وہ اپنے نام کے ساتھ فاروقی کا اضافہ کرتے تھے، وہ مادرزاد نابینا تھے، تاہم قرآنِ کریم کے حافظ تھے، قرآن خوانی اور کتب فروشی کے ذریعے اپنی معاش کا انتظام کرتے تھے، انہیں مذہبی علوم پر خاصی دسترس حاصل تھی اور اکثر بازاروں اور عوامی اجتماعات میں مناظرہ و مباحثہ کیا کرتے تھے، وہ صاحبِ تصانیف بھی تھے، علمِ مناظرہ پر ان کا ایک رسالہ شریعت آرا کے نام سے ان کی زندگی ہی میں شائع ہوچکا تھا، ان کی طبیعت پر مذہبی رنگ غالب تھا، اسی لیے جب شعر کہنے کی طرف مائل ہوتے تو حمد و نعت میں طبع آزمائی کرتے، جس سے ان کا دینی جوش اور عقیدہ واضح طور پر جھلکتا تھا، 1901ء میں تقریباً ستر برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا، وہ نہ صرف اردو بلکہ فارسی زبان میں بھی شاعری کرتے تھے جو دراصل اہلِ علم کی صحبت سے حاصل ہونے والے فیض کا نتیجہ تھا۔