Font by Mehr Nastaliq Web
Ghaus Ali Shah's Photo'

غوث علی شاہ

1804 - 1880 | پانی پت, بھارت

’’تذکرۂ غوثیہ‘‘ کے مصنف

’’تذکرۂ غوثیہ‘‘ کے مصنف

غوث علی شاہ کے صوفی اقوال

باعتبار

اولوالعزمی اور بلند ہمتی کی بدولت مشکل سے مشکل کام آسان ہو جاتا ہے۔

ہر شخص نے اپنی خواہشات کے موافق جداگانہ قبلہ بنا رکھا ہے اور اسی خیال میں مستغرق اور منہمک ہے۔

جب خدا ساتھ ہوگیا تو کسی دوسرے مددگار کی چنداں ضرورت نہیں۔

جس وقت تجلیِ ذات ہوتی ہے، ہر طرح سے اسرارِ توحید و یکتائی منکشف ہوتے ہیں۔

دنیا اور اس کی تمام اشیا ہیچ ہیں، اس کی عارضی زیب و زینت پر مفتوں ہونا ابدی زندگی سے ہاتھ دھونا ہے۔

دنیا مردار ہے اور اس کے طلب کرنے والے کتوں کی خاصیت رکھتے ہیں۔

استقامت اور استقلال انسان کے واسطے بڑی بیش بہا نعمت ہے۔

صفائی بغیر مجاہدہ کے حاصل نہیں ہوتی اور جمال لایزال بغیر صفائی کے نہیں دکھائی دیتا۔

طمع سے ذلت اور قناعت سے عزت ہوتی ہے۔

عشق سے انسان کو حیاتِ ابدی حاصل ہوتی ہے۔

صبر اگرچہ کڑوا ہے لیکن پھل اس کا میٹھا ہے، ’’الصبر مفتاح الفرح‘‘ کی تصدیق بڑے بڑے تجربوں سے ہوچکی ہے۔

دنیاوی دولت اور خوبصورتی پر فخر کرنا بیکار ہے، یہ جلدی ہی زوال کا شکار ہونے والی چیزیں ہیں۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے