گلاب رائے مہاراج کا تعارف
گلاب رائے مہاراج اگرچہ ظاہری بصارت سے محروم تھے، تاہم وادیٔ ودربھ کے ممتاز علما اور فلسفیوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور سلسلۂ “مدھرادویت” (Madhuradvait) کے ایک جلیل القدر شارح و نمائندہ تھے، روایت ہے کہ حضرت دانیشور نے ان کو خواب میں روحانی فیض و معرفت سے سرفراز فرمایا، جس کے بعد ان کے باطنی افق منور ہوگئے اور علم و حکمت کے نئے در وا ہوئے، ان کی تصانیف میں “سمپردائے مشٹارو”، “بھگوت رہسیا”، “ویوہار دھرم بودھ”، “سکتی رتن مالا” اور “پدچی گاتھا” جیسی کتابیں خاص طور پر شہرت رکھتی ہیں، جو فکر و عرفان، اخلاق و شریعت اور روحانی حکمت کے نادر خزائن سمجھی جاتی ہیں، یہ بزرگ ودربھ کے علاقے مدھن گاؤں میں سنہ 1802ء (بمطابق سنہِ ہجری/سموت) میں تولد ہوئے اور اپنے عہد میں علم و روحانیت کا ایک روشن چراغ ثابت ہوئے، جس کی ضیا سے اہلِ زمانہ نے بصیرت و ہدایت کی روشنی حاصل کی۔