Font by Mehr Nastaliq Web
Guru Nanak's Photo'

گرو نانک

1469 - 1539 | کرتار پور, پاکستان

سکھ مذہب کے بانی، عظیم روحانی پیشوا، مصلح اور وحدتِ انسانیت کے علمبردار تھے۔

سکھ مذہب کے بانی، عظیم روحانی پیشوا، مصلح اور وحدتِ انسانیت کے علمبردار تھے۔

گرو نانک کا تعارف

اصلی نام : گرو نانک

پیدائش : 14 Apr 1469 | پنجاب

وفات : 22 Sep 1539 | کرتار پور, پنجاب, پاکستان

گرو نانک دیو جنہیں تاریخِ مذاہب میں ایک عظیم مصلح، فکری رہنما اور روحانی پیشوا کی حیثیت حاصل ہے، 15 اپریل 1469ء کو رائے بھوئی کی تلونڈی میں جلوہ افروز ہوئے، یہ وہ بابرکت خطہ ہے جس نے بعد ازاں ایک ایسی شخصیت کو جنم دیا جس کی صدائے حق نے صدیوں کے فکری جمود کو متحرک کر دیا، آپ کا وصال 22 ستمبر 1539ء کو کرتار پور میں ہوا، جہاں آپ نے اپنی عمرِ عزیز کا آخری حصہ سکون و عبادت میں بسر فرمایا، تاریخ نے آپ کو سکھ مت کے بانی اور دس مقدس گروؤں کے سلسلے کے اولین مینار کی حیثیت سے محفوظ رکھا ہے، گرو نانک دیو کو محض ایک مذہبی رہنما کہنا ان کی وسعتِ فکر کے ساتھ نا انصافی کے مترادف ہوگا، آپ ایک ایسے آفاقی پیغام کے حامل تھے جو مذہب، ملت اور قوم کی قیود سے ماورا تھا، آپ نے انسان کو انسان سے جوڑنے اور خالقِ کائنات کی وحدانیت کو ہر ذرے میں جلوہ گر دیکھنے کی دعوت دی، آپ کے نزدیک کائنات کا ہر گوشہ اسی ایک حقیقت کا مظہر تھا جو ازل سے ابد تک قائم و دائم ہے۔
آپ کے فرمودات اور منظوم ارشادات "گرو گرنتھ صاحب" کے مقدس اوراق میں محفوظ ہیں، جہاں تقریباً 974 روحانی نغمے آپ کی فکر و وجدان کی گواہی دیتے ہیں، ان میں "جپ جی صاحب"، "آسا دی وار" اور "سدھ گوسٹ" کو خاص مقام حاصل ہے، جو نہ صرف عبادت کا وسیلہ ہیں بلکہ فکری بصیرت کے چراغ بھی، روایت ہے کہ بعد کے نو گروؤں میں بھی آپ ہی کی روحانی شمع فروزاں رہی اور یوں یہ سلسلہ ایک تسلسلِ نور کی صورت اختیار کر گیا۔
آپ کی ولادت ایک متوسط مگر باوقار گھرانے میں ہوئی، والد مہتا کالو اور والدہ ماتا ترپتا اپنے وقت کے ایک سادہ مزاج مگر شریف النفس خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ہمشیرہ بی بی نانکی نے ابتدا ہی میں آپ کی غیر معمولی فطرت کو پہچان لیا اور آپ کی تربیت میں روحانی سمتوں کی بنیاد فراہم کی، بچپن ہی سے آپ کی طبیعت میں سکوت، غور و فکر اور ماورائی حقیقتوں سے لگاؤ نمایاں تھا، روایت ہے کہ آپ نے کم سنی ہی میں عدد "ایک" کی رمز میں توحید الٰہی کا ایسا مفہوم بیان کیا کہ معلمین حیرت میں مبتلا رہ گئے۔
آپ نے ماتا سُلطکھنی سے عقد فرمایا اور اس رشتۂ حیات سے دو فرزند پیدا ہوئے، سری چند اور لکھمی چند، سری چند بعد ازاں زہد و ریاضت کی راہ پر گامزن ہوئے اور اداسی سلسلے کے بانی قرار پائے، جب آپ کی عمر تقریباً تیس برس کے قریب پہنچی تو آپ کی حیات میں ایک ایسا روحانی لمحہ وارد ہوا جس نے آپ کی فکر کو نئی جہت عطا کی، اس کے بعد آپ نے خلوت و جلوت میں یہ اعلان فرمایا کہ
"نہ ہندو ہے، نہ مسلمان، سب انسان ہیں، اصل حقیقت ایک ہے اور وہی سب کا معبود ہے"
یہ جملہ محض ایک قول نہ تھا بلکہ ایک فکری انقلاب کی بنیاد تھا، جس نے انسانی شعور میں وحدت، اخوت اور مساوات کے چراغ روشن کیے، اس کے بعد آپ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کو سفر و تبلیغ کے لیے وقف کر دیا، آپ نے مختلف خطوں، اقوام اور مذاہب کے درمیان جا کر یہ پیغام دیا کہ انسانیت کی اصل بنیاد محبت، عدل اور توحید ہے، آپ کے اسفار محض جغرافیائی نقل و حرکت نہ تھے بلکہ فکری و روحانی بیداری کی ایک مسلسل تحریک تھے۔

گرو نانک دیو کی تعلیمات سے ایک ایسی روحانی تحریک نے جنم لیا جس نے وقت کے دھارے میں اپنا مستقل مقام قائم کیا، یہ تحریک جسے بعد میں "سکھ مت" کے نام سے موسوم کیا گیا، دراصل انسان دوستی، اخلاقی بلندی اور توحیدی شعور کی تعبیر تھی۔سکھ عقیدے کے مطابق آپ کے بعد آنے والے نو گرو اسی نورِ ہدایت کے تسلسل کا حصہ رہے، آپ کی تعلیمات کا مرکزی نکتہ توحیدِ خالص، مساواتِ انسانی، اخلاقی پاکیزگی، محنت و دیانت اور روحانی بیداری تھا، آپ نے ذات پات، طبقاتی امتیاز اور ظاہری رسوم کی نفی کرتے ہوئے انسان کو اس کے باطن کی طرف متوجہ کیا، اگرچہ آپ کی فکری تشکیل پر مختلف مذاہب اور صوفیانہ روایات کے اثرات تسلیم کیے جاتے ہیں، تاہم آپ کی تعلیمات نے ایک جداگانہ روحانی و فکری نظام کو جنم دیا جو اپنی اصل میں منفرد اور خود مکتفی ہے، اپنی حیاتِ مبارکہ کے اختتام سے قبل آپ نے اپنے مخلص شاگرد بھائی لہنا کو اپنا روحانی جانشیں مقرر فرمایا، جنہیں بعد ازاں "گرو انگد" کے نام سے یاد کیا گیا، یہی وہ لمحہ تھا جس سے گروؤں کے تسلسل کی روشن روایت کا آغاز ہوا، بالآخر یہ آفتابِ ہدایت 22 ستمبر 1539ء کو کرتار پور میں غروب ہوا مگر اس کی ضیا آج بھی فکر و شعور کے افق پر روشن ہے، آپ کی وفات نے جسمانی جدائی ضرور پیدا کی مگر آپ کی تعلیمات کو دوام عطا کر دیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے