Font by Mehr Nastaliq Web
Guru Nanak's Photo'

گرو نانک

1469 - 1539 | کرتار پور, پاکستان

گرو نانک کے صوفی اقوال

باعتبار

جس نے خدا کی اطاعت کی نانک اسے کیا کمی ہے جو مانگا سو پایا۔

سب سے بہتر وراثت جو آئندہ نسلوں کے لیے چھوڑی جاسکتی ہے وہ اچھا چال چلن، بلند کردار ہے۔

جس کو خدا کا نام میٹھا لگا اس کا دل مسرور ہے، خوشیوں سے بھر پور ہے۔

جس کو خدا کا نام میٹھا لگا اس کا دل مسرور ہے، خوشیوں سے بھرپور ہے۔

نیکوں کی صفات یہ ہیں، بزرگوں کی خدمت اہل کمال کی خدمت اور ریا کاری سے اعتراض۔

بدی کے خلاف لڑنا انسان کا سب سے بہتر عمل ہے۔

برے کاموں سے شرم کرنا آدمی کے لیے بہبودی اور سلامتی کا موجب ہے، ایسے نیک آدمی کو اس زندگی میں نجات حاصل ہو جاتی ہے، وہ گویا حیاتِ جاوید پالتا ہے۔

نیکی میرا مذہب ہے۔

جس کے پاس یادِ خدا کی پونجی ہے اس کی خوش نصیبی کا کیا کہنا۔

پاک وہ نہیں ہیں جو اپنا جسم دھو کر بیٹھ جاتے ہیں، پاک وہ ہیں کہ جن کے اندر وہ رہتا ہے۔

افراط و تفریط سے الگ رہو، اعتدال کو اپنا شیوہ بناؤ۔

دنیا میں جسے دیکھو دولت کا دلدادہ ہے خدا کا نام کوئی نہیں لیتا، یہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے۔

ہندو اور مسلمان ایک ہی خدا کے بندے ہیں۔

جو گناہ کا مرتکب ہوا اسے آدمی سمجھو، جو گناہ کرکے نادم و پشیمان ہو، اسے ولی سمجھو اور جو گناہ کرکے اترائے، اسے شیطان سمجھو۔

پاک وہ نہیں ہیں جو اپنا جسم دھو کر بیٹھ جاتے ہیں، پاک وہ ہیں جن کے اندر وہ رہتا ہے۔

اے کبیر! درویش کی صحبت میں خدا یاد آتا ہے، یہی لمحے کام کے ہیں باقی سب بیکار۔

اکثر مصائب جو امیروں کو در پیش ہوتے ہیں غریب ان سے محفوظ رہتے ہیں۔

سمجھ لو کہ ان لوگوں کو پاکیزہ نہیں کہا جا سکتا جو اپنے جسم کو دھو کر پاک صاف کر لیتے ہیں، حقیقت میں پاک وہ ہیں جن کے باطن میں پاکیزگی ہے اور جن کے اندر خوفِ خدا ہے۔

خدا کی حقیقت انسان کی محدود عقل اور تجربہ و قیاس سے بالا تر ہے۔

خوراک ایسی کھاؤ جو جسم کو صحت مند بنائے اور من کو برے خیالات سے پاک رکھے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے