حافظ پیلی بھیتی کا تعارف
حافظ پیلی بھیتی 1860ء میں پیلی بھیت کے ایک معزز، دیندار اور علمی خانوادے میں پیدا ہوئے، فطری ذکاوت، علمی شغف اور مذہبی رجحان نے کم عمری ہی سے آپ کی شخصیت میں نمایاں اوصاف پیدا کر دیے تھے، آپ نے دینی و عصری علوم میں مہارت حاصل کی اور بعد ازاں وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوئے، اپنی علمی قابلیت، دیانت داری اور سماجی وقار کے باعث آپ کو آنریری مجسٹریٹ کے منصب پر بھی فائز کیا گیا، تاہم آپ کی اصل شناخت ایک بلند پایہ شاعر، صاحبِ دیوان ادیب اور عاشقِ رسول کی حیثیت سے قائم ہوئی۔
حافظ پیلی بھیتی کو شعر و سخن میں ایسا ملکہ حاصل تھا کہ معاصر اہلِ ادب نے انہیں ’’استاذ الشعرا‘‘ کے لقب سے یاد کیا، ان کی زندگی ہی میں ان کے آٹھ دیوان شائع ہوچکے تھے، جو اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ ان کا شعری فیضان کس قدر زر خیز اور ہمہ گیر تھا، اس کے علاوہ تقریباً دس مزید دیوان بھی ان کی یادگار بتائے جاتے ہیں جو بدقسمتی سے غیر مطبوعہ رہ گئے اور وقت کی گرد میں گم ہو گئے، اگر یہ سرمایہ محفوظ رہتا تو اردو نعتیہ ادب کا دامن مزید ثروت مند ہوتا۔
حافظ پیلی بھیتی کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف عشقِ رسول کی سچی وارفتگی اور عقیدت کی گہرائی ہے، ان کی نعتوں میں محبتِ مصطفوی کا ایسا پاکیزہ اور والہانہ اظہار ملتا ہے جو دلوں کو گرما دیتا ہے، ان کے یہاں محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ علمی شعور، مذہبی بصیرت اور روحانی کیف و سرور بھی بدرجۂ اتم موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار اردو کے ممتاز نعت گو شعرا میں کیا جاتا ہے۔
حافظ پیلی بھیتی کو مولانا احمد رضا خاں بریلوی سے خصوصی محبت اور قلبی انسیت حاصل تھی، وہ آپ کے علم، فضل، دینی بصیرت اور عشقِ رسول کے بے حد معترف تھے اور ان کی عظمت و رفعت کے قائل تھے، دونوں بزرگوں کے درمیان باہمی احترام اور قلبی تعلقات کی ایک حسین روایت موجود تھی، جس کا عکس حافظ کے کلام میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔
جب 1340ھ میں رضا بریلوی کا وصال ہوا تو حافظ پیلی بھیتی اس سانحۂ عظیم سے گہرے طور پر متاثر ہوئے، انہوں نے اپنے قلبی رنج و الم اور عقیدت و محبت کے جذبات کا اظہار متعدد قطعات اور تاریخی مادوں کے ذریعے کیا، یہ منظومات نہ صرف ان کی ارادت و محبت کی آئینہ دار ہیں بلکہ رضا کی علمی و روحانی عظمت کا بھی دل نشیں اعتراف ہیں، 1929ء میں یہ مردِ درویش اس جہانِ فانی سے رخصت ہوا لیکن اپنے پیچھے ایسا ادبی اور روحانی سرمایہ چھوڑ گیا جو آج بھی اہلِ ذوق کے لیے سرچشمۂ فیض ہے۔