حسیب احمد رویت کا تعارف
میاں حسیب احمد، شاہ رؤف احمد رأفت کے فرزند اور شیخ احمد سرہندی کی اولادِ امجاد میں سے تھے، آپ کی ولادت 1231 ہجری میں رامپور میں ہوئی، آپ ایک جید عالم، کامل فاضل اور زہد و ریاضت میں یگانۂ روزگار شخصیت کے حامل تھے، ابتدا ہی سے علمی و روحانی ماحول میں پرورش پائی اور اپنے والدِ محترم سے بیعت و تربیت حاصل کی، علومِ متداولہ کی تکمیل کے بعد آپ نے شعر و سخن کی طرف توجہ کی اور اس میدان میں بھی اپنے والد کی شاگردی اختیار کی، فنِ عروض و قوافی میں آپ کو خاص مہارت حاصل تھی اور عربی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں شعر کہتے تھے، آپ کو بھوپال کی فرماں روا نواب شاہ جہاں بیگم کا استاد ہونے کا شرف بھی حاصل تھا، جو آپ کے علمی مقام کی روشن دلیل ہے، تذکرۂ کاملانِ رامپور میں آپ کا نام حبیب احمد درج ہوا ہے، جبکہ تذکرۂ آثارالشعرا میں آپ کا تخلص رویت بیان کیا گیا ہے، میاں حسیب احمد کا انتقال 25 جمادی الاولیٰ 1262 ہجری کو بھوپال میں عالمِ شباب ہی میں ہوا، اگرچہ آپ کی عمر زیادہ نہ تھی مگر اپنی علمی، ادبی اور روحانی خدمات کے باعث آپ نے ایک دیر پا اثر چھوڑا۔