ہاشم شاہ کا تعارف
پنجابی زبان و ادب کی تاریخ میں ہاشم شاہ کا نام نہایت احترام اور عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے، وہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے ان ممتاز صوفی شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے فکر و فن، روحانی بصیرت اور داستان گوئی کے منفرد اسلوب کے ذریعے پنجابی ادب کو لازوال سرمایہ عطا کیا، ہاشم شاہ کی ولادت 1735ء (بعض روایات کے مطابق 1752ء) میں امرتسر کے قصبہ جگدیو کلاں میں ہوئی، وہ اپنی پوری زندگی اسی بستی میں مقیم رہے اور وہیں علم، روحانیت اور ادب کی شمع فروزاں کرتے رہے۔
ہاشم شاہ ایک ایسے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جس میں تصوف، پیر و مریدی اور حکمت کی روایت نسل در نسل چلی آرہی تھی، ان کے والد اور دادا بھی روحانی خدمات اور اصلاحِ خلق کے فرائض انجام دیتے تھے، چنانچہ ہاشم شاہ نے بچپن ہی سے تصوف کی فضا میں پرورش پائی اور روحانی اقدار کو اپنی زندگی کا محور بنایا، انہوں نے خاندانی روایت کے مطابق حکمت اور مرشدی کے فرائض انجام دیے، تاہم معاشی ضروریات کے پیشِ نظر کچھ عرصہ بڑھئی گری کا پیشہ بھی اختیار کیا، بعد ازاں جب پنجاب کے نامور فرماں روا مہاراجہ رنجیت سنگھ اور ان کے درباریوں کی سرپرستی حاصل ہوئی تو انہوں نے یہ پیشہ ترک کر دیا اور خود کو یکسوئی کے ساتھ روحانی ریاضت اور شاعری کے لیے وقف کر دیا۔
ہاشم شاہ کی شہرت کا سب سے بڑا سبب ان کی عشقیہ داستانیں ہیں جنہیں پنجابی ادب میں قصے کی روایت کا شاہکار تصور کیا جاتا ہے، انہوں نے انسانی عشق کو روحانی عشق کی علامت بنا کر پیش کیا اور اپنے فنی کمال سے ان داستانوں کو لازوال بنا دیا، ان کے معروف قصوں میں قصہ سسی پنوں، قصہ سوہنی مہینوال، اور قصہ شیریں فرہاد کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی، بالخصوص سسی پنوں میں عشق، جدائی، درد، وفا اور روحانی جستجو کے جو رنگ نمایاں ہوتے ہیں، وہ ہاشم شاہ کی فکری گہرائی اور شعری عظمت کا واضح ثبوت ہیں۔
ہاشم شاہ کی شاعری میں تصوف ایک بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے، ان کے نزدیک ظاہری عشق دراصل عشقِ حقیقی تک پہنچنے کا ایک وسیلہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں وارداتِ قلب، روحانی کیفیات، فراق و وصال کی رمزیت اور عرفانی معانی نہایت دل آویز انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں، ان کے کلام کو محض عشقیہ داستانوں کی حیثیت سے نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ اس میں معرفت، سلوک اور قربِ الٰہی کے لطیف اشارات بھی پوشیدہ ہیں، ان کی شاعری کو تمثیلی اور استعاراتی زاویے سے پڑھا جائے تو اس میں عشقِ مجازی کے پردے میں عشقِ حقیقی کی جلوہ گری نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
لسانی اعتبار سے ہاشم شاہ کی شاعری خالص پنجابی عروض اور آہنگ کی حامل ہے، تاہم ان کے ذخیرۂ الفاظ میں پنجابی کے ساتھ ساتھ ہندی، فارسی اور عربی زبانوں کے الفاظ کی کثرت بھی پائی جاتی ہے، اس امتزاج نے ان کے اسلوب کو ایک خاص وقار، معنوی وسعت اور تہذیبی رنگ عطا کیا ہے، ان کی زبان نہایت رواں، دل نشیں اور تاثیر سے بھرپور ہے، جس میں داستان گوئی کی چاشنی اور صوفیانہ فکر کی گہرائی یکجا ہوگئی ہے، ہاشم شاہ کی دیگر تصانیف میں گیان پرکاش اور دوہرے بھی شامل ہیں جو ان کے فکری تنوع اور علمی وسعت کے مظہر ہیں، ان تصانیف میں اخلاقی، روحانی اور حکیمانہ مضامین کو نہایت دلکش پیرائے میں بیان کیا گیا ہے، ہاشم شاہ کا وصال 1843ء میں ہوا، ان کی آخری آرام گاہ نارووال کے گاؤں تھرپال میں واقع ہے، جہاں ہر سال ان کے عرس کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور عقیدت مند ان کے مزار پر حاضر ہو کر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔