Font by Mehr Nastaliq Web
Imdad Imam Asar's Photo'

امداد امام اثر

1849 - 1934 | پٹنہ, بھارت

اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور شمس العلما کے خطاب سے سرفراز ادیب تھے، آپ کی سب سے معروف تصنیف "کاشف الحقائق" اردو تنقید کی اہم اور ابتدائی کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اردو، فارسی، عربی اور انگریزی پر عبور کے باعث آپ کی تنقید علمی گہرائی، استدلال اور فکری توازن کی آئینہ دار ہے۔

اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور شمس العلما کے خطاب سے سرفراز ادیب تھے، آپ کی سب سے معروف تصنیف "کاشف الحقائق" اردو تنقید کی اہم اور ابتدائی کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اردو، فارسی، عربی اور انگریزی پر عبور کے باعث آپ کی تنقید علمی گہرائی، استدلال اور فکری توازن کی آئینہ دار ہے۔

امداد امام اثر کا تعارف

تخلص : 'اثر'

اصلی نام : امداد امام

پیدائش : 17 Aug 1849 | آرہ, بہار

وفات : 17 Oct 1934 | بہار, بھارت

امداد امام اثرؔ اردو کے ممتاز شاعر اور شمس العلما کے خطاب سے سرفراز ادیب و نقاد تھے، آپ کی اصل شہرت اردو تنقید کی شہرۂ آفاق کتاب "کاشف الحقائق" (دو جلدیں: 1894ء) کے سبب قائم ہوئی جو اردو تنقیدی روایت میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، آپ 17 اگست 1849ء کو آرہ کے سالارپور میں پیدا ہوئے اور 17 اکتوبر 1934ء کو وفات پائی، آپ کا تعلق شیعہ عقائد سے تھا اور آپ نے دو شادیاں کیں، امداد امام کا زمانہ شبلی نعمانی اور الطاف حسین حالی سے پہلے کا دور ہے جہاں اردو تنقید میں نئے معنوی مباحث اور فکری رویوں کی تشکیل ہو رہی تھی، آپ کی تنقید اسی فکری فضا میں پروان چڑھی اور ایک منفرد اسلوب و زاویۂ نظر اختیار کر گئی، آپ کے ادبی اور تنقیدی مزاج بڑا گہرا اور اثردار رہا ہے، آپ کو اردو تنقید کی اس وقت کی زبوں حالی کا احساس تھا، بالخصوص اس بنا پر کہ اردو کا فکری و ادبی حوالہ زیادہ تر عربی و فارسی سے وابستہ تھا، جہاں تنقید کی کوئی باقاعدہ اور منظم روایت موجود نہ تھی، امداد امام اردو، فارسی اور عربی کے علاوہ انگریزی زبان سے بھی واقف تھے اور انہوں نے انگریزی ادب کا مطالعہ براہِ راست کیا تھا، اسی سبب ان کی تحریروں میں فکری توازن، استدلالی ٹھہراؤ اور علمی سنجیدگی نمایاں ہے، آپ کے تنقیدی شعور پر ابن قتیبہ، ابن رشیق، عبدالقاہر جرجانی، ابو ہلال عسکری، جاحظ، کولرج اور رچرڈسن وغیرہ کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں، آپ کی تنقید کو عموماً "عملی تنقید" کا نمونہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم یہ وہ عملی تنقید نہیں جو جدید دور میں اصطلاحی طور پر مستعمل ہے بلکہ ایک فکری و تنقیدی مکتبِ فکر کی حیثیت رکھتی ہے، اسی لیے بعض اہلِ نقد کے نزدیک آپ کو کسی مخصوص دبستان سے منسلک کرنا درست نہیں سمجھا جاتا، آپ کی کتاب "کاشف الحقائق" کو بعض ناقدین نے "تنقیدی اجتہاد" کی مثال قرار دیا ہے، جس میں اردو شاعری کا مطالعہ ہندوستانی اور فارسی ادبی پس منظر میں کیا گیا ہے، امداد امام کی اہم تصانیف کاشف الحقائق، مرآۃ الحکما، فسانۂ ہمت، کتاب الاثمار، کیمیائے زراعت، فوائد دارین، مصباح الظلم، کتاب الجواب، معیار الحق، ہدیۂ قیصریہ، رسالہ طاعون، نذر آلِ محمد وغیرہ ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے