Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

جئے سنگھ اول

1661 - 1667 | جئے پور, بھارت

ریاستِ آمیر کے نامور راجپوت حکمران اور مغل سلطنت کے ممتاز سپہ سالار تھے، 1621ء میں آمیر کے حکمران بنے اور تقریباً 46 برس تک حکومت کی، انہوں نے جہاں گیر، شاہ جہاں اور اورنگ زیب کے ادوار میں متعدد عسکری مہمات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جن کے صلے میں "میرزا راجہ" کا خطاب پایا۔ 1667ء میں برہان پور میں انتقال ہوا۔

ریاستِ آمیر کے نامور راجپوت حکمران اور مغل سلطنت کے ممتاز سپہ سالار تھے، 1621ء میں آمیر کے حکمران بنے اور تقریباً 46 برس تک حکومت کی، انہوں نے جہاں گیر، شاہ جہاں اور اورنگ زیب کے ادوار میں متعدد عسکری مہمات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جن کے صلے میں "میرزا راجہ" کا خطاب پایا۔ 1667ء میں برہان پور میں انتقال ہوا۔

جئے سنگھ اول کا تعارف

اصلی نام : جئے سنگھ

پیدائش : 15 Jul 1661 | جئے پور, راجستھان

وفات : 28 Aug 1667 | مدھیہ پردیش, بھارت

جے سنگھ برصغیر کی سیاسی اور عسکری تاریخ کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سترہویں صدی میں ریاستِ آمیر اور سلطنتِ مغلیہ دونوں کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے، ان کی ولادت 15 جولائی 1611ء کو ہوئی اور وہ 28 اگست 1667ء تک حیات رہے، انہوں نے 1621ء سے 1667ء تک تقریباً چھیالیس برس ریاستِ آمیر کی حکمرانی کی اور اسی مدت میں مغل دربار کے ایک نہایت بااعتماد سپہ سالار، مدبر اور منتظم کے طور پر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، راجہ بھاؤ سنگھ کی وفات کے وقت ان کا کوئی بیٹا موجود نہ تھا، چنانچہ ان کے چھوٹے بھائی مہا سنگھ کے فرزند جے سنگھ اول محض گیارہ برس کی عمر میں 1621ء میں آمیر کی گدی پر متمکن ہوئے، کم سنی کے باوجود ان کی غیر معمولی ذہانت، سیاسی بصیرت اور عسکری صلاحیتیں جلد ہی نمایاں ہوگئیں، اپنے عہدِ حکومت کے ابتدائی برسوں میں انہوں نے مغل شہنشاہ جہاں گیر اور بعد ازاں شاہ جہاں کی خدمت میں مختلف عسکری مہمات میں حصہ لیا اور ہر موقع پر اپنی وفاداری اور قابلیت کا ثبوت دیا۔
1623ء میں جہاں گیر نے انہیں دکن کے طاقتور حکمران ملک عنبر کے خلاف مہم پر روانہ کیا، جے سنگھ نے اس مہم میں نمایاں کامیابی حاصل کی، جس کے نتیجے میں 1625ء میں انہیں دلاور خاں پٹھان کی بغاوت کے انسداد کا فریضہ سونپا گیا، اس مہم میں بھی انہوں نے غیر معمولی عسکری مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغاوت کو کچل دیا، بعد ازاں شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں 1629ء میں ازبکوں کی شورش کو دبانے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا، 1636ء میں بیجاپور اور گولکنڈہ کے خلاف مغل مہمات میں انہیں مرکزی کمان سونپی گئی، ان کی قیادت میں مغل افواج نے نمایاں فتوحات حاصل کیں جس سے شاہ جہاں بے حد خوش ہوا، ان خدمات کے صلے میں چاکسو اور اجمیر کے پرگنے بطور جاگیر عطا کیے گئے اور انہیں ’’میرزا راجہ‘‘ کے معزز خطاب سے نوازا گیا، یہ اعزاز ان کی سیاسی اہمیت اور مغل دربار میں ان کے بلند مرتبے کا مظہر تھا۔
جے سنگھ کی عسکری زندگی کا ایک اہم باب قندھار کی مہمات سے وابستہ ہے، 1637ء میں وہ پہلی مرتبہ شہزادہ شجاع کے ساتھ قندھار روانہ کیے گئے، بعد ازاں 1651ء میں شاہ جہاں نے انہیں سعداللہ خاں کے ہمراہ قندھار کی مہم پر مامور کیا جہاں انہوں نے مغل فوج کے ہراول دستے کی قیادت کی، ان کی جنگی مہارت اور انتظامی صلاحیتوں کے اعتراف میں قندھار کی صوبہ داری شہزادہ سلیمان شکوہ کے ساتھ مشترکہ طور پر ان کے سپرد کی گئی، اس تقرری نے انہیں سلطنتِ مغلیہ کے بااثر ترین امرا کی صف میں لا کھڑا کیا، راجہ جے سنگھ  کی زندگی مغل سلطنت کے تین عظیم فرماں رواؤں جہاں گیر، شاہ جہاں اور اورنگ زیب کے ادوار پر محیط رہی، انہوں نے ہر دور میں سیاسی تدبر، عسکری بصیرت اور انتظامی قابلیت کا ایسا مظاہرہ کیا جس نے انہیں اپنے زمانے کے ممتاز ترین راجپوت حکمرانوں میں شامل کر دیا، وہ نہ صرف ایک کامیاب سپہ سالار تھے بلکہ ایک مدبر سیاست دان اور سلطنت کے وفادار رکن بھی تھے۔
28 اگست 1667ء کو برہان پور میں ان کا انتقال ہوا، بعض روایات کے مطابق انہیں ان کے چند معتمد سرداروں نے زہر دے دیا تھا، برہان پور میں آج بھی ان کی یاد میں قائم اڑتیس ستونوں والی چھتری ان کی عظمت اور تاریخی اہمیت کی یاد دلاتی ہے، ان کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے راجہ رام سنگھ اول آمیر کے حکمران بنے جن کے بعد بشن سنگھ اور پھر ان کے نامور فرزند سوائی جے سنگھ ثانی تخت نشیں ہوئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے