جلال لکھنوی کا تعارف
حکیم سید ضامن علی جو اپنے شعری تخلص جلال کی نسبت سے جلال لکھنوی کے نام سے شہرت رکھتے ہیں، انیسویں صدی کے ممتاز اردو شاعر، ادیب، عالم اور قواعد نگار تھے، آپ کا تعلق ریاستِ رام پور سے تھا، آپ کی پیدائش 1832ء یا 1834ء میں لکھنؤ میں ہوئی، آپ کے والد حکیم سید اصغر علی داستان گو اپنے عہد کے معروف شاعر، قواعد داں اور داستان گو تھے جن سے آپ کو علمی و ادبی ذوق ورثے میں ملا، جلال لکھنوی نے ابتدائی تعلیم نواب آصف الدولہ کے قائم کردہ مدرسے میں حاصل کی، آبائی پیشے کے طور پر طباعت کا فن اختیار کیا، تاہم شعروادب سے گہری وابستگی کے باعث جلد ہی سخنوری کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر لیا، ابتدا میں امیر علی خاں ہلال سے اصلاح لی، بعد ازاں میر علی اوسط رشک اور آفتاب الدولہ برق کی صحبت سے فیضیاب ہوئے، اس طرح ان کی شاعری میں فکری پختگی اور فنی شعور پیدا ہوا، 1857ء کے ہنگامہ خیز دور کے بعد نواب یوسف علی خاں نے انہیں رام پور آنے کی دعوت دی، جہاں ان کے والد داستان گوئی کے شعبے سے وابستہ تھے، رام پور میں جلال لکھنوی کو دربار سے وابستگی حاصل ہوئی اور نواب کلب علی خاں کے عہدِ حکومت میں ان کی خدمات کے اعتراف میں سو روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا گیا، وہ تقریباً دو دہائیوں تک دربارِ رام پور سے وابستہ رہے اور وہاں کے علمی و ادبی ماحول کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال کرتے رہے، نواب کلب علی خاں کے انتقال اور ریاست میں کونسل آف ریجنسی کے قیام کے بعد انہیں رام پور چھوڑنا پڑا، بعد ازاں ریاست مانگرول (کاٹھیا واڑ) کے نواب حسین میاں نے انہیں اپنے دربار میں مدعو کیا لیکن آب و ہوا کی ناسازگاری کے باعث وہ زیادہ عرصہ وہاں قیام نہ کر سکے اور واپس لکھنؤ آ گئے، بالآخر 20 اکتوبر 1909ء کو لکھنؤ ہی میں ان کا انتقال ہوا، جلال نے اردو شاعری کے علاوہ زبان و قواعد کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں، ان کی تصانیف میں چار دیوان، دو لغات اور عروض و قواعدِ زبانِ اردو سے متعلق متعدد رسائل شامل ہیں، وہ ایسے اہلِ قلم تھے جنہوں نے شاعری، لغت اور لسانیات تینوں میدانوں میں اپنی علمی بصیرت اور ادبی صلاحیتوں کے نقوش چھوڑے۔