جوان سندیلوی کا تعارف
جوان سندیلوی جن کا اصل وطن سندیلہ، ہردوئی تھا یہ 1889ء میں پیدا ہوئے، ان کے والد گلاب رام شاہ تجارت پیشہ شخص تھے، جوان سندیلوی نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، والد کے ہمراہ لکھنؤ کا رخ کیا اور وہاں ذاتی شوق اور محنت سے اردو و فارسی کا مطالعہ جاری رکھا، 1905ء میں انہوں نے باقاعدہ طور پر شعر گوئی کا آغاز کیا، شاعری کے ابتدائی دور میں وہ میر منصب علی سندیلوی سے اصلاح و مشورہ لیتے رہے، ان کے انتقال کے بعد جوان نے آرزو لکھنوی کے تلامذہ میں شمولیت اختیار کی اور ان کی شعری رہنمائی سے فیض حاصل کیا، اپنے استاد کے ہمراہ وہ کلکتہ گئے جہاں ادبی سرگرمیوں میں مصروف رہے، 1961ء میں دوبارہ لکھنؤ واپس آگئے، جوان کا انتقال 25 جنوری 1974ء کو ہوا، ان کا شعری سرمایہ "کلیاتِ جوان" کے نام سے شائع ہوا، جس کی پہلی جلد "حسین چراغاں" کے عنوان سے 1963ء میں، دوسری جلد "شوخ غنچہ" کے نام سے 1964ء میں اور تیسری جلد "چراغِ قاف" کے نام سے 1966ء میں منظرِ عام پر آئی، اس کے علاوہ ان کی "رباعیاتِ جوان خوش رنگ" بھی شائع ہوچکی ہے۔