Font by Mehr Nastaliq Web
Keshavdas's Photo'

کیشو داس

1555 - 1617 | ٹیکم گڑھ, بھارت

عہدِ ریتی کے ممتاز ہندی شاعر تھے جو اورچھا کے راجا مدھوکر شاہ اور اندرجیت سنگھ کے دربار سے وابستہ رہے، ان کی نمایاں تصانیف ’’رسک پریا‘‘، ’’کوی پریا‘‘، ’’رتن باونی‘‘، ’’رام چندریکا‘‘ اور ’’جہاں گیر جس چندریکا‘‘ ہیں جنہوں نے انہیں ہندی ادب کے کلاسیکی شعرا میں ممتاز مقام عطا کیا۔

عہدِ ریتی کے ممتاز ہندی شاعر تھے جو اورچھا کے راجا مدھوکر شاہ اور اندرجیت سنگھ کے دربار سے وابستہ رہے، ان کی نمایاں تصانیف ’’رسک پریا‘‘، ’’کوی پریا‘‘، ’’رتن باونی‘‘، ’’رام چندریکا‘‘ اور ’’جہاں گیر جس چندریکا‘‘ ہیں جنہوں نے انہیں ہندی ادب کے کلاسیکی شعرا میں ممتاز مقام عطا کیا۔

کیشو داس کا تعارف

کیشو داس عہدِ ریتی کے عظیم المرتبت، صاحبِ طرز اور ہمہ جہت شعرا میں شمار ہوتے ہیں، آپ 1637 سے 1674 سموت تک حیات رہے، اس عرصۂ حیات میں اورچھا کے مقتدر فرماں روا راجا مدھوکر شاہ اور ان کے فرزند مہاراج اندرجیت سنگھ کے دربار سے وابستہ رہے جہاں آپ کو غیر معمولی عزت و توقیر حاصل تھی، مغل بادشاہ اکبر کے نامور درباریوں، راجہ بیربل اور راجا ٹوڈر مل سے بھی آپ کے نہایت خوشگوار اور قریبی مراسم تھے جو آپ کی علمی و ادبی وجاہت کا بین ثبوت ہیں، آپ کی ادبی زبان بنیادی طور پر بندیل کھنڈی تھی، تاہم اس میں برج بھاشا کی دل آویز آمیزش نے آپ کے اسلوب کو ایک منفرد لطافت اور دل کشی عطا کی، آپ نہ صرف عہدِ ریتی کے ممتاز اور باوقار شاعر تھے بلکہ ہندی ادب کی کلاسیکی روایت کے معماروں میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں، آپ کی تصانیف میں رسک پریا، کوی پریا، رتن باونی، رام چندریکا اور جہاں گیر جس چندریکا کو غیر معمولی شہرت اور ادبی اہمیت حاصل ہے، یہ تصانیف آپ کی بلند پایۂ شعری بصیرت، فنی مہارت اور ادبی عظمت کی روشن دلیل ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے