خادم حسن اجمیری کا تعارف
تخلص : 'خادم'
اصلی نام : حسن
پیدائش : 15 Dec 1894 | مرادآباد, اتر پردیش
وفات : 28 Oct 1970 | راجستھان, بھارت
رشتہ داروں : قاضی عبدالرحیم اجمیری (مرشد), ڈاکٹر ظہورالحسن شارب (مرید)
خادم حسن اجمیری المعروف نواب گدڑی شاہ ثالث کی ولادت 15 دسمبر 1894ء مطابق 4 جمادی الثانی 1312ھ مرادآباد کے محلہ نواب پورہ کے ایک معزز، باوقار اور صاحبِ ثروت خانوادے میں ہوئی، آپ کے دادا نواب فدا علی جن کا وصال 12 جون 1864ء کو ہوا، اس علاقے کے بانی اور اپنے عہد کے ممتاز جاگیردار تھے، ان کی جاگیر سینتیس دیہات پر مشتمل تھی اور وہ اپنے زمانے کے بااثر رؤسا میں شمار کیے جاتے تھے، آپ کا اسمِ گرامی خادم شاہ فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی نے تجویز فرمایا تھا، اس نام کے ساتھ انہوں نے یہ بشارت بھی دی کہ آئندہ زمانے میں بے شمار طالبانِ حق آپ کے فیوض و برکات سے مستفید ہوں گے، نسبی اعتبار سے بھی آپ کو ایک نہایت جلیل القدر روحانی خانوادے سے تعلق حاصل تھا، چنانچہ آپ حضرت سماع الدین سہروردی دہلوی کی اولاد میں سے تھے، جس کے باعث سلسلۂ سہروردیہ کی روحانی نسبت بھی آپ کو ورثے میں ملی، خادم حسن کی حیات میں فیصلہ کن روحانی انقلاب اس وقت برپا ہوا جب انہیں قاضی عبدالرحیم اجمیری گدڑی شاہ ثانی کی صحبتِ بافیض میسر آئی، مرشدِ کامل کی نگاہِ تربیت نے ان کی شخصیت کو اس طرح جلا بخشی کہ وہ سیرت و کردار، فکر و عمل اور روحانی احوال میں اپنے شیخ کا کامل مظہر بن گئے اور سلوک و معرفت کی بلند منازل پر فائز ہوئے۔
خادم حسن اپنی وجاہت، شائستگی، متانت اور خاندانی وقار کے باعث عوام و خواص میں یکساں محبوب تھے، آپ زہد و تقویٰ، انکسار، حسنِ اخلاق، مروت اور ایثار کا مجسم نمونہ تھے، ضرورت کے مطابق وقار و سنجیدگی اختیار کرتے مگر ہر حال میں خوش اخلاقی، مہمان نوازی، رحم دلی اور شفقت کو اپنا شعار بنائے رکھتے تھے، جس کے باعث ہر شخص آپ کی مجلس سے فیض و سکون حاصل کرتا تھا، آپ ایک بلند پایۂ صوفی، صاحبِ قلم مصنف اور قادرالکلام شاعر تھے، اردو زبان میں آپ کی تقریباً اسی تصانیف منظرِ عام پر آئیں، جبکہ اردو شاعری کے گیارہ ضخیم مجموعے تصوف، عرفان اور روحانی ادب کا نہایت گراں قدر سرمایہ تصور کیے جاتے ہیں جن میں عشقِ الٰہی، معرفتِ نفس اور سلوک کے دقیق مضامین نہایت لطیف پیرائے میں بیان ہوئے ہیں، حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام آگرہ میں بسر ہوئے، وصال سے قبل آپ نے اپنے خلیفہ ڈاکٹر ظہورالحسن شارب جو بعد ازاں گدڑی شاہ رابع کے منصبِ سجادگی پر فائز ہوئے ان کو اپنے پاس بلا کر نہایت مؤثر نصیحت فرمائی کہ
"بیٹے! خدا کے سوا کسی سے کسی چیز کی امید نہ رکھنا، کیوں کہ انسان نہایت بے ثبات ہے، تمام مذاہب کا احترام کرنا"
اس کے بعد آپ نے غربا و مساکین میں کچھ رقم تقسیم کرنے کی ہدایت فرمائی، اس کے بعد ڈاکٹر ظہورالحسن شارب کو اپنا جانشیں اور سجادہ نشیں مقرر فرما کر 28 رمضان المبارک 1389ھ مطابق 29 نومبر 1970ء شام چھ بجے آگرہ میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، آپ کا سالانہ عرس ہر سال 28 اور 29 رمضان المبارک کو نہایت تزک و احتشام اور عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کیا جاتا ہے جہاں ملک و بیرونِ ملک سے ہزاروں عقیدت مند حاضری دے کر فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں، آپ کی تعلیمات کا مرکزی محور عشق و محبت تھا، آپ فرمایا کرتے تھے کہ راہِ عشق کی منزلیں عشق ہی کے ذریعے طے ہوتی ہیں، محض ریاضت، مشقت یا عبادت اس کا نعم البدل نہیں بن سکتیں، آپ کے نزدیک عشق دل کی تمام ظاہری و باطنی خواہشات کا حقیقی علاج ہے لیکن خود عشق ہر خواہش اور ہر غرض سے بے نیاز ہے، عشق ہی وہ قوت ہے جو تمام کائنات کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے اور حقیقت یہ ہے کہ عشق سے برتر اور کوئی قوت نہیں۔