خلیق احمد نظامی کا تعارف
پروفیسر خالق احمد نظامی (5 دسمبر 1925ء – 4 دسمبر 1997ء) برصغیر کے ممتاز مؤرخ، محقق، ماہرِ تعلیم اور سفارت کار تھے، جنہوں نے قرونِ وسطیٰ کی ہندوستانی تاریخ، بالخصوص تاریخِ تصوف اور سلطنتِ دہلی کے مطالعے میں گراں قدر علمی خدمات انجام دیں، آپ کی ولادت 5 دسمبر 1925ء کو متحدہ ہندوستان کے شہر امروہہ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم کے بعد 1945ء میں میرٹھ کالج جو اس وقت آگرہ یونیورسٹی سے ملحق تھا، سے تاریخ میں ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی، اسی جامعہ سے ایل۔ایل۔بی کی سند بھی حاصل کی، 1947ء میں آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ سے وابستہ ہوئے جہاں طویل عرصے تک تدریس و تحقیق کی خدمات انجام دیتے رہے، بعد ازاں 3 جنوری 1974ء سے 30 اگست 1974ء تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے، جبکہ 3 جولائی 1977ء سے 30 جولائی 1980ء تک شعبۂ تاریخ کے ڈین کے منصب پر فائز رہے، آپ کی علمی خدمات کے اعتراف میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کے۔اے۔ نظامی سینٹر فار قرآنی اسٹڈیز قائم کیا گیا جو آپ ہی کے نام سے موسوم ہے، تعلیمی خدمات کے علاوہ آپ نے سفارتی میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا اور 1975ء سے 1977ء تک جمہوریۂ ہند کے سفیر کی حیثیت سے شام میں اپنے فرائض انجام دیے، آپ کی علمی و تحقیقی تصانیف آج بھی تاریخِ ہند اور تاریخِ تصوف کے معتبر مآخذ شمار کی جاتی ہیں، آپ کی اہم کتابوں میں آن ہسٹری اینڈ ہسٹورینز آف میڈیول انڈیا، رائلٹی ان میڈیول انڈیا، دی لائف اینڈ ٹائمز آف شیخ نظام الدین اؤلیا، دی لائف اینڈ ٹائمز آف شیخ فریدالدین گنجِ شکر، سم ایسپیکٹس آف ریلیجن اینڈ پولیٹکس ان انڈیا ڈورنگ دی تھرٹینتھ سنچری اور میڈیول انڈیا: اے مسیلنی شامل ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کی قرونِ وسطیٰ کی تاریخ، مذہبی و سیاسی ارتقا اور صوفیانہ روایت پر نہایت مستند اور وقیع تحقیق پیش کی۔