Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

خلش دہلوی

1935 | دہلی, بھارت

اردو کے ممتاز شاعر اور گیت کار تھے، غزل ان کی بنیادی صنفِ سخن تھی، تاہم نظم، قطعہ اور گیت بھی کہے، ان کے معروف شعری مجموعے ’’حرفِ نوا‘‘ اور ’’موجِ صبا‘‘ ہیں۔

اردو کے ممتاز شاعر اور گیت کار تھے، غزل ان کی بنیادی صنفِ سخن تھی، تاہم نظم، قطعہ اور گیت بھی کہے، ان کے معروف شعری مجموعے ’’حرفِ نوا‘‘ اور ’’موجِ صبا‘‘ ہیں۔

خلش دہلوی کا تعارف

تخلص : 'خلش'

اصلی نام : کرشن بھیانہ

پیدائش : 01 Jun 1935 | मानसा, پنجاب

خلش دہلوی کا اصل نام کنور کرشن بھیانہ تھا، ادبی دنیا میں وہ خلش دہلوی کے نام سے معروف ہوئے، 1935ء میں براوالا میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم دہلی میں حاصل کی جہاں سے آپ کی علمی اور ادبی شخصیت کی تشکیل کا آغاز ہوا، 1955ء میں آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں بی اے کی ڈگری حاصل کی، جبکہ 1959ء میں اندور کے جی۔ایس۔ٹی۔آئی سے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، دورانِ تعلیم ہی آپ کا رجحان شعر و ادب کی جانب ہوگیا تھا، شعر گوئی کا یہ سلسلہ نوجوانی سے شروع ہوا اور عمر بھر جاری رہا، آپ کی پہلی تخلیق حسرتیں تھی جس نے آپ کی ادبی زندگی کا آغاز کیا، اگرچہ آپ کا آبائی وطن پنجاب تھا لیکن دہلی میں قیام کی وجہ سے آپ نے خلش دہلوی تخلص اختیار کیا اور اسی نام سے شہرت پائی، خلش بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، تاہم انہوں نے قطعات، پابند نظمیں، آزاد نظمیں اور نثری نظمیں بھی تخلیق کیں، وہ ایک کامیاب گیت کار بھی تھے اور ان کے گیت عوام و خواص میں یکساں مقبول ہوئے، ان کے شعری مجموعوں میں "حرفِ نوا" اور "موجِ صبا" خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے