Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

خردمند علی

شاہ پور, بھارت

بہار کے عالم اور ادیب تھے، ان کی شہرت ’’منامل دینی‘‘ (1206ھ) کی وجہ سے ہے جس میں قرآن مقدس کی منتخب آیات کا ہندی ترجمہ اور تشریح پیش کی گئی ہے جو برصغیر کی ابتدائی مذہبی و لسانی کاوشوں میں شمار ہوتی ہے۔

بہار کے عالم اور ادیب تھے، ان کی شہرت ’’منامل دینی‘‘ (1206ھ) کی وجہ سے ہے جس میں قرآن مقدس کی منتخب آیات کا ہندی ترجمہ اور تشریح پیش کی گئی ہے جو برصغیر کی ابتدائی مذہبی و لسانی کاوشوں میں شمار ہوتی ہے۔

خردمند علی کا تعارف

اصلی نام : خردمند علی

پیدائش :شاہ پور, بہار

خردمند علی کو اپنے عہد کے ممتاز رئیس لالہ شری رام شاہپوری کی سرپرستی حاصل تھی، جس نے ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا، وہ شاہ پور بہار کے باشندہ تھے، وہ ان اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مذہبی علوم کی تفہیم اور بین اللسانی ابلاغ کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں، 1206ھ میں انہوں نے "منامل دینی" کے نام سے ایک اہم تصنیف مرتب کی جس کی نمایاں خصوصیت قرآن مقدس کی بعض منتخب آیات کا ہندی ترجمہ ہے، یہ کاوش اس اعتبار سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس دور میں قرآنِ کریم کے معانی کو مقامی زبانوں میں منتقل کرنے کی روایت ابھی ابتدائی مراحل میں تھی، خردمند علی نے نہایت احتیاط اور فہم و تدبر کے ساتھ قرآن کی متعدد آیات کو ہندی زبان میں منتقل کیا، تاکہ مقامی باشندے بھی ان کے مفاہیم سے آگاہ ہوسکیں، اس کتاب کا ایک قلمی نسخہ 1258ھ میں قدرت علی نے نقل کیا، جس سے اس تصنیف کی علمی مقبولیت اور اس کی اشاعتی روایت کا اندازہ ہوتا ہے، اس نسخے میں قرآن کی مجموعی طور پر اڑتالیس آیات کا ہندی ترجمہ شامل ہے، مزید برآں کتاب کے ضمیمے میں بعض آیات کی توضیح اور تشریح ہندوستانی اساطیری روایات کے تناظر میں بھی کی گئی ہے جو اس زمانے کے مذہبی، ثقافتی اور فکری تعامل کی ایک قابلِ توجہ مثال ہے، اس لحاظ سے "منامل دینی" صرف ایک ترجمۂ قرآن نہیں بلکہ برصغیر کی لسانی، مذہبی اور تہذیبی ہم آہنگی کا ایک اہم تاریخی اور علمی دستاویز بھی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے