خواجہ سلیمان تونسوی کے صوفی اقوال
دنیا داروں کی صحبت سے دور رہے کیوں کہ یہ لوگ جب دنیا میں مستغرق ہو جاتے ہیں تو خدا کا خوف ان کے دلوں سے نکل جاتا ہے، حتیٰ کہ ان کے دلوں میں چینٹی کے کاٹنے کے خوف کے برابر بھی خوف نہیں رہتا۔
سالک کو چاہیے کہ عشق کے کام میں دلیر اور جواں مرد بن کر اس کی راہ مشقتوں کو دل و جاں سے برداشت کرے۔
سالک کو چاہیے کہ ہر ایک کا ادب و احترام کرے، بالخصوص اپنے پیر بھائیوں کا بہت خیال رکھے۔
مرشدِ کامل کا دامن تھامے رہو اور ہمیشہ ان کی صحبت میں رہو تاکہ تمہیں خدا تک پہنچنے کا درجہ مل سکے۔
مرشد کے منصب کا حقیقی حقدار وہی شخص ہے جو اپنے مرید کے حالات سے باخبر ہو اور اس کی مدد کے لیے متوجہ ہو جائے، خواہ وہ ہزاروں میل دور ہی کیوں نہ ہو۔
کوئی شخص بھی ظاہر و باطن میں اتباعِ شریعت کے بغیر کبھی مقبولِ بارگاہِ خداوندی نہیں ہوسکتا۔
تین چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھو، اول قاضی بن کر حکم دینے سے، دوم کسی کا ضامن سے، سوم کسی کی امانت اپنے پاس رکھنے سے، کیوں کہ یہ وصیت ہمارے پیرانِ کرم اپنے مریدوں کو کرتے آئے ہیں۔
سالک کو چاہیے کہ حق تعالیٰ کی عبادت سے کبھی خالی نہ رہے کیوں کہ جو کوئی اس زمانہ میں اس قدر عبادت کرے گا، جلدی اپنے مقصود کو پہنچ جائے گا۔
سالک کو چاہیے کہ دنیا سے دور رہے کیوں کہ دنیا کی مثال کوڑا کرکٹ کی سی ہے اور دنیا کا طالب مانند گدھے کے ہے۔
سالک کو چاہیے کہ ہمیشہ نفس اور شیطان سے ڈرتا رہے اور کبھی ان سے مطمئن نہ ہو۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere