Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

خواجہ عبیداللہ خرد

دہلی, بھارت

خواجہ عبیداللہ خرد کے صوفی اقوال

فقیر وہ ہے کہ اپنے دشمن سے بھی دوستی کرے اور ہر شخص کا اعزاز و اکرام کرے، کسی شخص کو چشم دوئی سے نہ دیکھے، بالفرض اگر کسی نے اس کو گالی بھی دی تو وہ اس کے لیے دعائے خیر کرے یا اس کو کوئی تحفہ دے تاکہ اس کا دل شاد و خرم ہو جائے۔

طالبِ حق کو چاہیے کہ تنگی معیشت اور احتیاج کا غلبہ و اہلِ دنیا میں سے کسی کے پاس نہ جائے اور ترک آمد و رفت کر دے۔

ہمتِ عالی اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ انسان کو جمیع مراتبِ دنیا سے انقطاع کلی حاصل ہو اور دنیا کی باعث فخر چیزیں اس کی نظر میں بے حیثیت اور بے قدر ہوں نیز بجناب حق توجہ دائمی میسر ہو۔

جاننا چاہیے کہ شریعت صورت حقیقت ہے اور حقیقت معنی شریعت صورت معنی سے اور معنی صورت سے جدا نہیں ہوتے، معنی تک پہنچنا بے توسط صورت مستحیل ہے اور صورت پر اکتفا کرنا اور معنی سے جو کہ مقصود صورت ہے، غافل ہونا صریح نقصان کی بات ہے، اس سے زیادہ کیا لکھا جائے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے