مخدوم اشرف جہاں گیر کے صوفی اقوال
بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ نوافل پڑھنا خدمتِ خلق سے بہتر ہے، ان کا یہ خیال غلط ہے، کیوں کہ خدمت کا جو اثر قلب پر پڑتا ہے وہ ظاہر ہے، دونوں کے نتیجے میں نظر کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ خدمتِ خلق نوافل پڑھنے سے بہتر ہے۔
صوفیوں کے لیے علمِ توحید کا جاننا ضروری ہے کیوں کہ طریقت و حقیقت کا انحصار اسی علم پر ہے۔
کسی کو چشمِ حقارت سے نہیں دیکھنا چاہیے کیوں کہ اکثر اس میں خدا کے دوست چھپے رہتے ہیں۔
صوفی کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالمِ باعمل ہو، اس کے افعال و حرکات پسندیدہ ہوں اور شریعت و طریقت کے مطابق ہوں، اس میں لطافتِ زبان حسنِ احلاق، شگفتگی، فیاضی اور بے غرضی ہو، وہ اوصافِ ذمیمہ کی پستی سے نکل کر اوصافِ حمیدہ کی بلندی پر پہنچ گیا ہو، خدا کے علاوہ ہر چیز سے بے نیاز ہوچکا ہو یہی اس کی پہچان ہے۔
تسلیم و رضا یہ ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی نعمت ملے تو وہ خوش ہو اور اگر مصیبت آئے تو غمگین نہ ہو۔
کوئی درویش سلاطین و امرا سے حظِّ نفسانی اور لذتِ شہوانی کی غرض سے ملتا ہے تو وہ درویش نہیں۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere